رامائن بنیادی طور پر نیکی اور بدی، حق اور باطل، اور خیر اور شر کا ایک ابدی رزمیہ (Epic) ہے۔ اس داستان میں شری رام صداقت، ہوش و آگہی، اور روحانی بلندی کے نقیب ہیں، جبکہ ان کا حریف راون انانیت، غرور، اور مادی ہوس کا استعارہ ہے۔ رامائن میں میدانِ دین (دھرم کشیتر) اور شیطانی میدانِ عمل (کرم کشیتر) کے درمیان ہونے والی اس جنگ کو اردو شعراء نے نہایت فلسفیانہ اور جمالیاتی انداز میں پیش کیا ہے۔
راون انتہائی طاقتور، عالم اور سونے کی لنکا کا مالک تھا، لیکن اس کے مزاج میں شدید اضطراب، سرکشی اور انانیت تھی۔ وہ اپنی مادی طاقت پر اس قدر فخر کرتا تھا کہ اس نے روحانی دولت سے مالامال رام کو حقیر سمجھا۔ اس کے برعکس، رام اور ان کے رفقاء (سیتا، لکشمن، ہنومان) صعودی (Vertical) پرواز کے حامل ہیں، جو مسلسل اعلیٰ انسانی اور روحانی اقدار کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ جب راون سیتا کا ہرن کر لیتا ہے، تو یہ محض ایک عورت کا اغوا نہیں، بلکہ شر کا خیر پر حملہ تھا۔
اس جنگ میں ہنومان کا کردار ایک سچے اور بے لوث خادم کا ہے۔ جب ہنومان لنکا پہنچتے ہیں اور راون کے دربار میں اسے للکارتے ہیں، تو راون اپنی انانیت میں ان کی دم میں آگ لگانے کا حکم دیتا ہے۔ طالب الہ آبادی نے ہنومان کے لنکا دہن (لنکا جلانے) کے منظر کو نہایت حرکی اور ڈرامائی انداز میں پیش کیا ہے، جو دراصل راون کے غرور کے خاکستر ہونے کی علامت ہے:
اب چلے کود کود کر ہنومان
آگ کا شہر میں اُٹھا طوفان
چھت سے چھت پر کود جاتے تھے
آگ ہر گھر میں وہ لگاتے تھے
ہو گئے خاک جل کے لاکھوں گھر
سارے لنکا میں مچ گیا محشر
رام اور راون کے درمیان ہونے والی حتمی جنگ محض دو بادشاہوں کی لڑائی نہیں تھی، بلکہ یہ کائنات کے توازن کو برقرار رکھنے کی جنگ تھی۔ راون کے دس سر اس کی بے پناہ لیکن بے سمت خواہشات اور غرور کی علامت ہیں۔ پنڈت رادھے شیام نے اس جنگ کی منظر کشی کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ کس طرح رام کا ایک تیر راون کی ناف (جہاں اس کی طاقت کا امرت تھا) میں پیوست ہوتا ہے اور باطل کا خاتمہ ہوتا ہے:
ایک ہی بان سے راون کے دس مستک کٹتے جاتے ہیں
پر اُسی ایک چھن کے اندر پھر ویسے ہی دکھلاتے ہیں
...
رام نے اسی چھن ایک بان مارا اُر میں دشکندھر کے
پرتھوی پر لوٹنے لگے اُس مہابیر بھٹ نشچر کے
لنکا میں ہاہاکار مچا دیوؤں میں جئے جئے کار ہوا
جئے ہوئی رام رگھورائی کی وہ مہا ادھم سنہار ہوا
جنگ کے اختتام اور اجودھیا واپسی کے بعد، داستان کا ایک اور کٹھن مرحلہ سیتا کی 'اگنی پریکشا' (آگ کا امتحان) ہے۔ یہ مرحلہ معاشرتی دباؤ اور حق کی آزمائش کی انتہا ہے۔ پاکستانی شاعرہ زہرہ نگاہ نے سیتا کی اس آزمائش کو نہایت فنی بصیرت اور لطافت کے ساتھ پیش کیا ہے، جہاں سیتا آگ سے گزر کر اپنی پاکیزگی ثابت کرتی ہیں اور رام ان کا استقبال کرتے ہیں:
سیتا کو دیکھے سارا گاؤں، آگ پہ کیسے دھرے گی پاؤں
بچ جائے تو دیوی ماں ہے، جل جائے تو پاپن
جس کا روپ جگت کی ٹھنڈک اگنی اس کا درپن
...
اگنی پار اتر کے سیتا جیت گئی وشواس
دیکھا دونوں ہاتھ بڑھائے رام کھڑے ہیں پاس
اردو شاعری میں رامائن کا یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ داستان محض ایک اساطیری قصہ نہیں، بلکہ انسانی روح کی تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف سفر کی ایک لازوال علامت ہے۔
