تخلیقی زبان کوئی عام بول چال کی زبان نہیں ہوتی، بلکہ یہ چار بنیادی عناصر سے عبارت ہے: تشبیہ، پیکر، استعارہ اور علامت۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، اگرچہ تمثیل (Allegory) اور نشانی (Emblem) جیسی چیزیں بھی ادب کا حصہ ہیں، لیکن تخلیقی زبان کی اصل شرط انہی چار عناصر میں پوشیدہ ہے۔ ایک سچے تخلیقی فن پارے میں ان چار میں سے کم از کم دو عناصر کا ہونا لگ بھگ لازمی ہے۔ اگر دو سے کم عناصر ہوں تو زبان اپنی تخلیقی روح کھو کر سپاٹ اور غیر تخلیقی ہو جاتی ہے۔
ان عناصر میں سب سے سادہ اور معروف تعریف 'تشبیہ' کی ہے۔ تشبیہ محض دو مختلف اشیاء کے درمیان کسی مشترک خوبی یا نقطۂ اشتراک کی دریافت اور اس کی وضاحت کا نام ہے۔ مثلاً 'زید شیر کی طرح بہادر ہے'۔ اس جملے میں بہادری وہ نقطہ اشتراک ہے جو زید اور شیر کو ایک سطح پر لاتا ہے۔ لیکن جب ہم 'پیکر' (Image) کی بات کرتے ہیں تو اردو تنقید میں اکثر ابہام پایا جاتا ہے۔ بعض نقاد اسے کسی خوابناک کیفیت یا ہیولے سے تعبیر کرتے ہیں، جو کہ فاروقی صاحب کے نزدیک ایک غیر قطعی اور نادرست رویہ ہے۔
پیکر کی نہایت سادہ، جامع اور سائنسی تعریف یہ ہے کہ ہر وہ لفظ جو ہمارے حواسِ خمسہ (دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی حس) میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ کو متحرک کرے، پیکر کہلاتا ہے۔ پیکر تراشی کے لیے فنکار کو کسی مراقبے یا پراسرار عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے اپنے حواس کو پوری طرح بیدار رکھنا پڑتا ہے تاکہ وہ قاری کے متخیلہ کو حسی تجربات کے ذریعے متحرک کر سکے۔
کبھی کبھی حواس کے مختلف تجربات مل جل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے مغربی تنقید میں Synesthesia کہا جاتا ہے۔ اردو شاعری، بالخصوص غالب کے یہاں، اس 'امتزاجِ پیکر' کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں۔ غالب کے یہ اشعار دیکھیے:
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
ہیں ورق گرادنیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم
باوجود یک جہاں ہنگامہ، پیدائی نہیں
ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
ان اشعار میں بصری (دیکھنے)، استماعی (سننے) اور لمسی (چھونے) تجربات کا ایک حیرت انگیز امتزاج ہے۔ 'محفلیں برہم کرے ہے' میں حرکت اور آواز ہے، 'ورق گردانی' میں بصری تجربے کے ساتھ پتوں کے الٹنے کی ہلکی سی آواز اور لمس کا تاثر بھی موجود ہے۔ 'بت خانہ' کا تصور ایک گہرے سکوت (آواز کی عدم موجودگی) کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح 'چراغانِ شبستان' میں روشنی، اندھیرا اور بستر کا لمسی تاثر ایک ساتھ ابھرتے ہیں۔ یہ اشعار ثابت کرتے ہیں کہ عظیم شاعری میں پیکر تراشی محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ حواس کا ایک مکمل اور پیچیدہ تجربہ ہوتی ہے۔
