تخیل کی ماہیت اور اس کے کام کرنے کے انداز کو سمجھنا بذاتِ خود ایک پیچیدہ مرحلہ ہے۔ مولانا حالی کے نزدیک تخیل ایک ایسی کیمیا گر قوت ہے جو انسان کے ذہن میں پہلے سے موجود تجربات اور مشاہدات کے بکھرے ہوئے ذخیرے کو ایک نئی، انوکھی اور دلکش صورت بخشتی ہے۔ یہ قوت صرف خیالات کی دنیا میں ہی تصرف نہیں کرتی، بلکہ الفاظ اور عبارات کو بھی ایک ایسا نرالا پیرایہ عطا کرتی ہے جہاں تک کسی غیر شاعر کی رسائی ممکن نہیں۔ تخیل کا یہ عمل ہر شاعر کے یہاں یکساں نہیں ہوتا؛ کہیں یہ خیالات کی گہرائی میں جلوہ گر ہوتا ہے اور کہیں الفاظ کی نشست و برخاست میں۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے مرزا غالب کے کلام سے بہتر کوئی اور مثال نہیں ہو سکتی۔ غالب کا تخیل بکھری ہوئی عام معلومات کو جس طرح ایک لڑی میں پرو کر ایک نیا جہانِ معنی تخلیق کرتا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے
اس شعر کے پس منظر میں چند عام اور معلوم حقائق موجود ہیں: مٹی کا پیالہ (جامِ سفال) ایک سستی اور عام چیز ہے جو بازار سے بآسانی مل جاتی ہے، جبکہ جامِ جمشید ایک نایاب اور بے مثل شے ہے۔ دنیاوی لحاظ سے مٹی کے پیالے کی کوئی ایسی خوبی نہیں جو اسے جامِ جم پر فوقیت دے سکے۔ لیکن غالب کی قوتِ متخیلہ نے ان بظاہر متضاد اور عام معلومات کو ایک ایسے نئے ڈھنگ سے ترتیب دیا کہ مٹی کے پیالے کے سامنے جامِ جمشید کی حقیقت ہیچ ہو کر رہ گئی۔ تخیل نے اس نئی صورت کو الفاظ کا ایسا دلفریب لباس پہنایا کہ قاری حیرت اور لذت کے ملے جلے جذبات سے سرشار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح غالب کا ایک اور شعر تخیل کی اس لطیف اور حیرت انگیز کاریگری کی گواہی دیتا ہے:
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
یہاں بھی شاعر کے ذہن میں یہ عام باتیں موجود تھیں کہ محبوب کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے، چہرے پر بشاشت آ جاتی ہے، اور یہ کہ عاشق جب تک اپنی حالتِ زار بیان نہ کرے، محبوب کو اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا۔ تخیل نے ان معلومات میں تصرف کر کے یہ انوکھی ترتیب پیدا کی کہ عاشق اپنی جدائی کی تکلیف محبوب پر ظاہر ہی نہیں کر سکتا، کیونکہ جب تکلیف ہوتی ہے تو محبوب پاس نہیں ہوتا، اور جب محبوب سامنے آتا ہے تو خوشی کے مارے تکلیف کا نام و نشان نہیں رہتا۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تخیل وہ قوت ہے جو پرانے اور معلوم حقائق کو دوبارہ ترتیب دے کر ایک ایسا نیا اور اچھوتا روپ دیتی ہے جو قاری کے دل و دماغ پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
