قیامِ پاکستان کے بعد اردو غزل میں جو نئی رو آئی، اس میں چند نام بہت نمایاں ابھر کر سامنے آئے، جن میں ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی اور احمد مشتاق شامل ہیں۔ ناصر کاظمی نے اپنی شاعری میں ہجرت، اداسی اور محزونی کا جو رنگ بھرا، اس نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔ لیکن اسی دور میں احمد مشتاق نے اپنا ایک بالکل الگ اور منفرد راستہ چنا، جو ناصر کاظمی کی جمالیاتی اداسی سے مختلف تھا۔
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، احمد مشتاق کے یہاں ناصر کاظمی جیسی محزونی نہیں ہے، بلکہ ان کے لہجے میں ایک طرح کا کھردرا پن، سختی اور صلابت پائی جاتی ہے جو بعض اوقات کلبیت (Cynicism) کی حدوں کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔ احمد مشتاق بہت کم گو اور کم آمیز شخص ہیں، لیکن ان کی شاعری غزل کے ان تمام کلاسیکی لوازمات پر پوری اترتی ہے جو میر سے لے کر آج تک غزل کی پہچان رہے ہیں۔
احمد مشتاق کی شاعری کی ایک بڑی خوبی ان کا لفظی دروبست اور کفایتِ لفظی ہے۔ وہ پرانے مضامین کو نئے زاویوں سے باندھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر دیکھیے:
دل کو بے وجہ سکوں ملنے لگا ہے مشتاق
کوئی شے ٹوٹ رہی ہے مرے اندر دیکھو
بظاہر یہ غم اور ٹھہراؤ کا پرانا مضمون ہے، لیکن 'اندر کوئی شے ٹوٹنے' کا استعارہ اسے ایک نیا باطنی اور نفسیاتی رخ دے دیتا ہے۔ پہلا مصرع بالکل سپاٹ اور سیدھا ہے، لیکن دوسرا مصرع قاری کو ایک دم چونکا دیتا ہے۔ یہ ڈرامائی انداز غزل کی جان ہے۔
اسی طرح احمد مشتاق کے یہاں ایک لطیف سا ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کے اشعار اوپر سے بالکل صاف اور شفاف نظر آتے ہیں، لیکن جب ان پر غور کیا جائے تو کئی سوالات اور معنی کی پرتیں کھلنے لگتی ہیں۔ ان کا یہ شعر اس کی عمدہ مثال ہے:
جاتے ہوئے ہر چیز یہیں چھوڑ گیا تھا
لوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا
اس شعر میں دھوپ وقت، یادوں، یا کسی محبوب شے کا استعارہ ہو سکتی ہے۔ سفر کی غرض، واپسی کا عمل اور گھر کا خالی پن، یہ سب مل کر ایک ایسا پراسرار منظر نامہ بناتے ہیں جو قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
احمد مشتاق نے کلاسیکی روایت، خاص کر میر تقی میر کے مضامین سے استفادہ کیا ہے، لیکن انہوں نے میر کے اشعار کو مسخ نہیں کیا بلکہ اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ ان کی شاعری جدید انسان کی تنہائی، اجنبیت اور داخلی شکست و ریخت کا نہایت پروقار اور کلاسیکی اظہار ہے۔
