اردو ادب کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا قاری ہو جس نے لڑکپن میں چرکین کے دو چار شعر نہ سنے ہوں، لیکن ان کے کلام کو سنجیدگی سے پڑھنے اور پرکھنے کی زحمت کم ہی لوگوں نے گوارا کی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ روایتی تنقیدی رویہ ہے جس نے چرکین کے کلام کو تہذیب سے گرا ہوا اور 'فحش' قرار دے کر مسترد کر دیا۔ محمد حسین آزاد جیسے نقادوں نے سودا، میر اور جرات کی ہجویات کے ساتھ ساتھ چرکین کے کلام کے بارے میں بھی یہی رائے قائم کی کہ اسے سن کر شرافت شرم سے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ چرکین کو عموماً شاعر تسلیم کرنے کے بجائے محض 'ہزال' یا غلاظت آلودہ کہہ کر نظر انداز کر دیا گیا۔
شمس الرحمن فاروقی نے اس عمومی اور سطحی رویے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نہایت اہم تنقیدی بحث کا آغاز کیا ہے۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ لوگ عام طور پر 'فحش' (Pornography) اور 'برازیات' (Scatology) میں فرق نہیں کرتے۔ اردو تنقید میں چونکہ بول و براز کے مضامین کے لیے کوئی باقاعدہ اصطلاح موجود نہیں تھی، اس لیے ہر اس کلام کو جس میں انسانی فضلات کا ذکر ہو، فحش کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ انگریزی میں اس کے لیے Scatology کی اصطلاح موجود ہے۔ فاروقی صاحب نے عربی اور فارسی لغات کی چھان بین کے بعد اس کے لیے 'برازیات' کی اصطلاح وضع کی، جو اس نوع کے کلام کی تفہیم کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
فاروقی صاحب کے مطابق، فحش کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اعضائے جنس یا جنسی افعال کا بیان اس طرح کھلی زبان میں کیا جائے کہ اس سے قاری کے اندر جنسی لذت پیدا ہو، یا وہ کلام لذت پیدا کرنے کی غرض ہی سے تخلیق کیا گیا ہو۔ اگر اس تعریف کو معیار بنایا جائے تو چرکین پر فحش گوئی کا اطلاق بمشکل ہی ہو سکتا ہے۔ چرکین کے کلام میں جنسی لذت انگیزی کے بجائے بول و براز اور موت جیسی 'غیر شاعرانہ' باتوں سے مزاح اور مضمون آفرینی پیدا کرنے کا رجحان غالب ہے۔
یہ درست ہے کہ چرکین کا کلام 'خلافِ تہذیب' ضرور کہلا سکتا ہے، یعنی یہ ایسا کلام نہیں جسے بچوں یا محفلوں میں کھلے بندوں پڑھا جا سکے۔ لیکن 'خلافِ تہذیب' ہونا بھی ایک اضافی اور موضوعی (Subjective) تصور ہے۔ جس طرح آج کل بالغوں کے لیے مخصوص (Adult) فلمیں سینما گھروں میں بلا روک ٹوک دیکھی جاتی ہیں، اسی طرح ادب میں بھی کچھ حصے مخصوص ذہنی بلوغت کا تقاضا کرتے ہیں۔ چرکین کا کلام جنسی گدگدی پیدا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی ان تلخ اور گندی حقیقتوں کو زبان دینے کے لیے ہے جنہیں عام طور پر تہذیب کے لبادے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ لہٰذا چرکین کو محض فحش گو قرار دینا ان کی شعری اور لسانی صلاحیتوں کے ساتھ صریح زیادتی ہے۔
