غالب کی شاعری کا ذکر آتے ہی ذہن میں جو سب سے پہلا تصور ابھرتا ہے، وہ ان کی 'مشکل پسندی' ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی نے ادبی تنقید میں ایک نہایت اہم اور باریک فرق واضح کیا ہے: اشکال (Difficulty/Obscurity) اور ابہام (Ambiguity) کا فرق۔ فاروقی صاحب کے نزدیک غالب کا کلام مشکل نہیں بلکہ مبہم ہے، اور ابہام کو وہ اشکال سے کہیں زیادہ بلند منصب کی چیز سمجھتے ہیں۔
اشکال عموماً شعر کا عیب ہوتا ہے۔ اس کی نوعیت ایک معمے یا کوڈ (Code) کی سی ہوتی ہے۔ جب آپ اس معمے کو حل کر لیتے ہیں، یا کسی مشکل لفظ کے معنی لغت سے دیکھ لیتے ہیں، تو شعر کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے اور وہ قطعی اور آخری ٹھہرتا ہے۔ اشکال صرف ایک سطح کو پہچانتا ہے۔ اس کے برعکس، ابہام شعر کا حسن ہے۔ ابہام کی بنیادی خصوصیت غیر قطعیت ہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جس میں ہر طرف اشارے ہی اشارے ہوتے ہیں اور ہر اشارہ اپنی جگہ صحیح ہوتا ہے۔ ابہام بیک وقت مختلف سطحوں پر حاوی ہوتا ہے اور قاری کو معانی کی کئی تہوں سے روشناس کراتا ہے۔
غالب چونکہ ابہام اور اشکال کے اس جدید تنقیدی فرق سے ناواقف تھے، اس لیے انہوں نے اپنے ابہام کو بھی اشکال ہی کا نام دیا۔ لیکن وہ ابہام کی حقیقت سے پوری طرح واقف تھے۔ غالب کے یہاں جو اشعار بظاہر مشکل لگتے ہیں، ان کا اشکال اکثر قاری کی علمی استعداد پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر غالب کا یہ مشہور شعر دیکھیے:
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
اس شعر کا بظاہر اشکال اس کی تلمیح (کاغذی پیرہن پہن کر داد خواہی کرنا) میں مضمر ہے۔ اگر قاری اس تلمیح سے واقف ہو جائے تو ظاہری معنی فوراً سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ اسی طرح:
ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
یہاں ایک معمائی کیفیت ہے جس کا اشارہ معشوق کی مست رفتاری ہے۔ ان اشعار کا مشکل ٹھہرنا خود اشعار پر نہیں بلکہ پڑھنے والے کے ذہن پر منحصر ہے۔ لیکن غالب کا اصل کمال ان کا ابہام ہے، جہاں وہ ایک ہی تجربے میں کئی کیفیات کو سمو دیتے ہیں۔
چونکہ غالب کے کلام کی اساس جذبے سے زیادہ تجربے اور جذباتیت سے زیادہ عقلیت پر ہے، اس لیے انہیں وہ پیچیدگیاں عزیز تھیں جو شعر میں ظاہر کیے ہوئے تجربے کو لفظی صنعتوں کے ذریعے ایک ایسی کیفیت بخش دیتی ہیں جو پڑھنے والے کے ذہن کو مختلف راہیں تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ غالب کا ابہام اس ذہن کی خصوصیت ہے جو مختلف المعنی یا مختلف الکیفیت حقائق کو ایک ساتھ ظاہر کرنے پر قادر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کو محض ایک 'مشکل گو' شاعر کہہ کر مسترد کرنا ان کی عظیم شعری کائنات کے ساتھ ناانصافی ہے۔
