اردو ادب میں میر تقی میر کے حوالے سے سب سے بڑی اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ وہ ایک مردم بیزار، دنیا سے کٹے ہوئے اور اپنے خول میں بند رہنے والے دل شکستہ انسان تھے۔ اس تاثر کو پختہ کرنے میں مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب 'آب حیات' کا بڑا ہاتھ ہے۔ آزاد نے میر کے بارے میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ لکھنؤ کے ایک نواب نے انہیں ایک مکان دیا جس کی کھڑکیاں باغ کی طرف کھلتی تھیں، لیکن میر نے کئی برس تک وہ کھڑکیاں نہیں کھولیں۔ جب ایک دوست نے پوچھا تو میر نے اپنے پھٹے پرانے مسودوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں اپنے خیالوں کے باغ میں ایسا گم ہوں کہ باہر کے باغ کی خبر نہیں۔
شمس الرحمن فاروقی اس واقعے کو محض ایک 'سنی سنائی گپ' قرار دیتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ آزاد نے جن تذکروں (جیسے قدرت اللہ قاسم کا 'مجموعہ نغز' اور سعادت خاں ناصر کا 'خوش معرکہ زیبا') پر بھروسا کیا ہے، ان میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگرچہ میر نے اپنے دیوانِ پنجم میں یہ شعر ضرور کہا ہے:
سرو لب جو لالہ و گل نسرین و سمن ہیں شگوفہ ہے
دیکھو جدھر اک باغ لگا ہے اپنے رنگیں خیالوں کا
تاہم، محض اس شعر کی بنیاد پر میر کو ایک 'گھر گھسنا' اور 'رونا بسورتا' شخص قرار دینا ان کے کلام اور ان کی شخصیت کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ میر کا کلام اس بات کا گواہ ہے کہ وہ مختلف طبقوں، پیشوں اور عام زندگی کے معاملات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ دیوانِ چہارم کا یہ شعر اس کی بہترین مثال ہے:
کب تک دل کے ٹکڑے جوڑوں میر جگر کے لختوں سے
کسب نہیں ہے پارہ دوزی میں کوئی وصال نہیں
اس شعر میں 'پارہ دوزی' (پھٹے پرانے کپڑے سینے کا پیشہ) اور 'وصال' (پیوند) جیسے الفاظ کا استعمال ثابت کرتا ہے کہ میر کا مشاہدہ کتنا عمیق تھا۔ یہ الفاظ کوئی ایسا شخص استعمال نہیں کر سکتا جس کا دنیا اور علائقِ دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔ میر نے زندگی کے ہر رنگ کو قریب سے دیکھا اور اسے اپنی غزلوں کا حصہ بنایا۔ ان کے یہاں اشیا کی فراوانی اور روزمرہ زندگی کی چہل پہل اس بات کی غماز ہے کہ وہ زندگی سے فرار اختیار کرنے والے نہیں، بلکہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے عظیم فنکار تھے۔
