ادبی تاریخ اور تنقید میں ایک طویل عرصے سے یہ معمہ چلا آ رہا ہے کہ کیا کسی ایک عہد کے ادب کا مطالعہ دوسرے عہد میں مکمل طور پر معروضی (Objective) انداز میں کیا جا سکتا ہے؟ ہر عہد کے اپنے مخصوص ذہنی رویے، سوچنے کے زاویے اور موضوعیت (Subjectivity) ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ زاویے بدل جاتے ہیں۔ اکثر مؤرخین اور نقاد اس بات کا ادراک نہیں کر پاتے کہ وہ ماضی کا مطالعہ کرتے وقت غیر شعوری طور پر اپنے زمانے کے کلچر اور مفروضات کو سابقہ زمانوں پر مسلط کر دیتے ہیں۔ اس لیے سو فیصد معروضی مطالعہ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس بحث سے جڑا ہوا دوسرا اہم مسئلہ ادب میں 'اوریجنلٹی' (Originality) یا طبع زاد تخلیق کا تصور ہے۔ بالخصوص مشرقی روایت میں ادیب یا شاعر کو ایک ایسے 'تخلیق کار' کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اپنے ذہن اور شعور سے بالکل نئے معنی خلق کرتا ہے۔ یہ رومانوی تصور ہمارے مزاجوں میں اس قدر رچا بسا ہے کہ ہم ادبی متن کو محض ایک انفرادی اور طبع زاد کارنامہ سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن جدید تنقیدی نظریات، بالخصوص نئی تاریخیت نے اس موقف کو چیلنج کیا ہے۔
ان نظریات کے مطابق، ادب میں اوریجنلٹی کی نظریاتی بنیادیں انتہائی کمزور ہیں۔ شاعر یا ادیب کا ذہن اور شعور مطلقاً آزاد نہیں ہوتا۔ اس کی موضوعیت دراصل اس کی ثقافت اور تاریخ کی متعین کردہ ہوتی ہے۔ جو چیز ثقافت اور تاریخ کے خمیر سے اٹھی ہو، وہ 'آزادِ محض' کیسے ہو سکتی ہے؟ مصنف کی ذات کو جو ایک حتمی سرچشمہ یا مرکز سمجھ لیا گیا تھا، وہ دراصل اس عہد کے ڈسکورس کا حصہ ہے، اور وہ مراکز کلچر میں پیوست ہوتے ہیں۔
اسی بنیاد پر ادب کی داخلی (Intrinsic) اور خارجی (Extrinsic) اقدار کی پرانی بحث بھی دم توڑ جاتی ہے۔ ہیئت پسندوں کا اصرار تھا کہ ادب کا مطالعہ صرف اس کی داخلی اقدار پر ہونا چاہیے، جبکہ تاریخیت پسند خارجی عناصر پر زور دیتے تھے۔ نئی تاریخیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ داخلی اور خارجی دونوں اقدار دراصل ثقافت ہی کی متعین کردہ ہیں۔ کوئی بھی فن پارہ خلا میں تخلیق نہیں ہوتا، بلکہ وہ پہلے سے موجود متون اور ثقافتی ڈسکورس کے ساتھ ایک گہرا رشتہ (بین المتونیت) رکھتا ہے۔ لہٰذا، تخلیق کار کی مطلق انفرادیت کا تصور ایک ایسا متھ ہے جسے جدید ادبی تھیوری نے بڑی حد تک تحلیل کر دیا ہے۔
