اردو ادب کی تاریخ میں اکبر الٰہ آبادی کے حوالے سے یہ تاثر عام رہا ہے کہ وہ محض طنز و مزاح کے شاعر تھے اور جدیدیت، انگریزی تعلیم اور ترقی کے کٹر مخالف تھے۔ انھیں ایک ایسے قدامت پسند بوڑھے کے طور پر پیش کیا گیا جو ریل، تار، چھاپہ خانے اور عورتوں کی آزادی جیسی ہر نئی چیز سے خائف تھا۔ یہاں تک کہ ان کے حامیوں نے بھی ان کی شاعری کو محض وقتی اور مزاحیہ قرار دے کر یہ تسلیم کر لیا کہ چونکہ اب وہ حالات نہیں رہے، اس لیے اکبر کا طنز بھی اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی اس روایتی اور سطحی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اکبر کو اردو کے پانچ سب سے بڑے شاعروں میں شمار کرتے ہیں۔
فاروقی صاحب کے نزدیک اکبر کا المیہ یہ نہیں ہے کہ ان کا موضوع ختم ہو گیا، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ان کے کلام کو سرسری پڑھ کر ان کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی۔ اکبر دراصل محض غیر ملکی غلامی کے خلاف نہیں تھے، بلکہ وہ اس نوآبادیاتی نظام (Colonialism) اور سرمایہ داری کے خلاف تھے جس نے ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیا تھا۔ اکبر وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے بدلتے ہوئے زمانے کے مضمرات اور انگریزی سامراج کے پوشیدہ ہتھیاروں کو اس وقت پہچان لیا تھا جب مہاتما گاندھی اور علامہ اقبال جیسے مفکرین نے ابھی اس میدان میں قدم بھی نہیں رکھا تھا۔
اکبر کی عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ انھوں نے ملک سے باہر جائے بغیر، محض اپنی بصیرت سے مغربی تہذیب اور تعلیم کی استعماری علامتوں کو سمجھ لیا تھا۔ وہ ترقی کے مخالف نہیں تھے، بلکہ اس بات کے معترف تھے کہ ترقی اور اصلاح ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں۔ ان کی مخالفت اس بات پر تھی کہ یہ نام نہاد 'ترقی' دراصل نوآبادیاتی حاکم کی قوت کو پھیلانے اور مضبوط کرنے کا ایک حربہ ہے۔ وہ محض قدامت پرستی کی ضد میں یہ نہیں کہتے تھے:
پانی پینا پڑا ہے پائپ کا
حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا
پیٹ چلتاہے آنکھ آئی ہے
شاہ ایڈورڈ کی دہائی ہے
یہ اشعار بظاہر مزاحیہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کے پسِ پردہ ایک گہرا تہذیبی کرب اور نوآبادیاتی تسلط کا نوحہ چھپا ہے۔ اکبر نے محسوس کر لیا تھا کہ سامراجی طاقتیں کس طرح روزمرہ کی زندگی، عادات اور ضروریات پر قابض ہو رہی ہیں۔ ان کا پیغام آج کے دور میں بے معنی نہیں ہوا، بلکہ عالم کاری (Globalization) کے اس دور میں ان کی بصیرت مزید روشن ہو کر سامنے آئی ہے، جہاں تیسری دنیا آج بھی کسی نہ کسی شکل میں استعماری طاقتوں کے زیرِ اثر ہے۔
