اردو زبان کا صوتیاتی نظام اپنی ساخت میں بہت منفرد ہے۔ اس میں بندشی آوازوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن میں سے نصف کے قریب ہکار (Aspirated - جیسے بھ، پھ، تھ، چھ) اور معکوسی (Retroflex - جیسے ٹ، ڈ، ڑ) آوازیں ہیں۔ یہ آوازیں تعداد میں چودہ ہیں اور اردو کے مزاج کو ایک خاص قسم کا دیسی، زمینی اور بھاری پن عطا کرتی ہیں۔ لیکن جب ہم علامہ اقبال کی شاعری کا اسلوبیاتی مطالعہ کرتے ہیں، تو ایک انتہائی دلچسپ اور حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے: اقبال کے یہاں ان ہکار اور معکوسی آوازوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
اقبال کی شاہکار نظموں، مثلاً 'مسجد قرطبہ'، 'ذوق و شوق' اور 'خضر راہ' کا تجزیہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ 'مسجد قرطبہ' کے ایک پورے بند (16 مصرعوں) میں جہاں صفیری اور مسلسل آوازیں 118 بار آئی ہیں، وہیں ہکار آوازیں صرف 5 بار استعمال ہوئی ہیں، اور وہ بھی صرف وہاں جہاں قواعد کی مجبوری تھی:
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
یہاں 'دکھاتی'، 'تجھ'، 'مجھ' اور 'پرکھتا' جیسے الفاظ اردو کے بنیادی افعال اور ضمائر کا حصہ ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ اسی طرح 'ذوق و شوق' کے ابتدائی اشعار دیکھیں:
قلب ونظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں
حسن ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجود
دل کے لیے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں
ان اشعار میں بھی ہکار اور معکوسی آوازوں سے مکمل گریز نظر آتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقبال نے ایسا کیوں کیا؟ دراصل، ہکار اور معکوسی آوازیں ہوا کی بندش اور رگڑ سے پیدا ہوتی ہیں اور ان میں ایک طرح کا ٹھہراؤ اور بوجھل پن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اقبال کی شاعری کا مزاج حرکی (Dynamic) اور رجائی (Optimistic) ہے۔ ان کا پیغام تسلسل، پرواز، اور آفاقیت کا متقاضی ہے۔
اقبال کے پسندیدہ الفاظ پر غور کریں: شاہین، شفق، شعلہ، عقل و عشق، ذوق و شوق، زمان و مکان، شمشیر و سناں۔ ان تمام الفاظ میں منھ کے اگلے حصوں سے ادا ہونے والی ہلکی، صفیری اور مسلسل آوازیں ہیں۔ اقبال جب عقاب اور شہباز کے مقابلے میں 'شاہین' کو، یا بہشت کے مقابلے میں 'فردوس' کو ترجیح دیتے ہیں، تو اس کے پیچھے یہی صوتیاتی لاشعور کارفرما ہوتا ہے۔ ہکار اور معکوسی آوازوں کے اس قلیل ترین استعمال نے اقبال کی شاعری کو وہ روانی، تندی اور چستی عطا کی ہے جیسے پہاڑی چشمہ ابل پڑا ہو یا سرود کے تاروں سے نغمہ پھوٹ رہا ہو۔ یہی وہ صوتیاتی راز ہے جس نے اقبال کے کلام کو زمینی بوجھل پن سے آزاد کر کے آسمانی وسعتوں کا باسی بنا دیا ہے۔
