کسی بھی شعری فن پارے کی سب سے بنیادی سطح اس کی صوتیاتی (Phonological) سطح ہوتی ہے۔ اگرچہ بظاہر آواز (صوت) کے اپنے کوئی متعین معنی نہیں ہوتے، اور معنی کا عمل اس سے اوپری سطح یعنی کلمے اور جملے سے شروع ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آواز کی سطح بے معنی ہے۔ آوازوں کے مخصوص دروبست اور آہنگ سے ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو فضا سازی (Atmosphere creation) میں بے پناہ مدد دیتی ہے۔ یہ فضا سازی کسی بھی معنیاتی تاثر کو گہرا، تیکھا یا ہلکا کر سکتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری اس صوتیاتی فضا سازی کی اردو ادب میں سب سے شاندار مثال ہے۔
اقبال کے ابتدائی دور کی نظم 'ایک شام' (دریائے نیکر ہائیڈل برگ کے کنارے پر) اس صوتیاتی جادوگری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس نظم میں سناٹے، سکوت اور تنہائی کی کیفیت کو ابھارنے کے لیے اقبال نے شعوری یا غیر شعوری طور پر مخصوص آوازوں کا سہارا لیا ہے:
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبزپوش خاموش
اس مختصر سی نظم میں 'س'، 'ش'، 'خ' اور 'ف' کی آوازیں 35 بار آئی ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ شاعر کے باطنی مزاج اور معنیاتی فضا کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ لیکن اقبال کا اصل صوتیاتی کمال ان کی شاہکار نظموں میں نظر آتا ہے، جہاں ان کا فلسفۂ خودی، عمل کی گرم جوشی، اور آفاق کی وسعتوں میں پرواز کا حوصلہ ایک خاص صوتیاتی نظام کا تقاضا کرتا ہے۔
اقبال کی مشہور نظم 'مسجد قرطبہ' کا یہ بند ملاحظہ کریں:
سلسلہ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سلسلہ روز و شب، اصل حیات و ممات
سلسلہ روز و شب، تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
اس بند کے اسلوبیاتی تجزیے سے ایک حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے۔ اس پورے بند میں سولہ مصرعے ہیں اور ان سولہ مصرعوں میں صفیری آوازیں (س، ش، ز، خ، غ، ہ) اور مسلسل آوازیں (ل، ر) کل 118 بار استعمال ہوئی ہیں۔ صفیری اور مسلسل آوازیں وہ ہیں جن میں ہوا کے تسلسل، جاری رہنے اور پھیلنے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اقبال کا فردیت پر اصرار اور بے پایاں تحریک اسی تسلسل اور پھیلاؤ کا تقاضا کرتی ہے۔
اقبال کی آواز میں جو ایک گونج، شکوہ، توانائی اور بے کرانی محسوس ہوتی ہے، جیسے کوئی چیز گنبد افلاک میں ابھرتی اور پھیلتی چلی جائے، اس کا راز انہی صفیری اور مسلسل آوازوں کی کثرت میں پوشیدہ ہے۔ یہ آوازیں قاری کے ذہن میں ایک چمک پیدا کرتی ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔ اقبال نے اپنے پیغام کی عظمت کو ان آوازوں کے ذریعے ایک ایسا صوتیاتی پیکر عطا کیا ہے جس نے ان کی شاعری کو اردو ادب میں ایک منفرد اور ناقابلِ تسخیر مقام بخشا ہے۔
