میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 5 مزید
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ اس کی کیفیتِ بے خودی محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سبب کا نتیجہ ہے۔ “پردہ داری” سے مراد وہ راز، دکھ یا حقیقت ہے جسے زبان پر لانا ممکن نہیں، اس لیے اسے چھپایا جاتا ہے۔ یوں الجھن اور بے خودی خود اس چھپی ہوئی بات کی گواہی بن جاتی ہے۔ یہ شعر باطن کی تڑپ اور پوشیدہ درد کا اظہار ہے۔
-
موضوعات : بے خودیاور 2 مزید
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
-
موضوعات : زندگیاور 2 مزید
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
-
موضوع : مشہور اشعار
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
-
موضوعات : سردیاور 1 مزید
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
-
موضوعات : باماور 1 مزید
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شکستگی کے ساتھ طنزیہ اطمینان بھی ہے: شاعر تسلیم کرتا ہے کہ نصیب میں “کچھ نہیں” آیا، مگر چونکہ کچھ بھی مفت مل گیا تو اسے برا کیوں کہا جائے۔ “مفت ہاتھ آنا” زندگی/تقدیر کی بے قیمت عطا کا استعارہ ہے۔ احساس یہ ہے کہ محرومی کو بھی ہنسی میں لپیٹ کر قابلِ برداشت بنا لیا جائے۔
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے
-
موضوعات : رقیباور 1 مزید
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
Interpretation:
Rekhta AI
ذوقؔ کا یہ شعر انسانی بے بسی اور مجبوری کی ایک بہت عمدہ تصویر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان کا اپنی پیدائش اور موت پر کوئی اختیار نہیں ہے، وہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے۔ ہم دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے کے فیصلے میں بالکل بے بس ہیں، سب کچھ مشیتِ ایزدی کے تحت ہوتا ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی
چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں