Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیدار پر اشعار

خدارا اک نگاہ ناز ہی سے دیکھ لو ہم کو

گریباں پھاڑنے کو آج ہم تیار بیٹھے ہیں

نواب سیف علی سیاف

محض خوابوں خیالوں میں ترا دیدار ہو کب تک

حقیقت میں بھی تجھ سے آشنائی چاہتے ہیں ہم

ماہم خان

حسن ہوتا ہے کسی شے کا کوئی اپنا ہی

اور پھر دیکھنے والے کی نظر ہوتی ہے

ترکش پردیپ

آ جائیں وقت نزع تو میں ان کو دیکھ لوں

ارمان کوئی دل میں اب اس کے سوا نہیں

نواب سیف علی سیاف

تمہیں جو دیکھ لے اک بار دیکھتا رہ جائے

تمہارا حسن محبت کا استعارہ ہے

الماس زینب رضوی

مجھے تو تیری بربادی بھی بربادی نہیں لگتی

کہ میں نے وہ بھی دیکھا ہے جو ہے برباد سے آگے

ہمانشی بابرا

تم تو پھر غیر ہو تم سے تو شکایت کیسی

میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں

ہمانشی بابرا

حسن دل کش اسے کہتے ہیں کہ ہم ساری عمر

ان کو دیکھا کیے دیدار کی حسرت نہ گئی

جلیل مانک پوری

تمہاری دید کی خواہش لیے وہ بیٹھے ہیں

تمہاری دید ہی بیمار کی شفا ٹھہری

الماس زینب رضوی

کھڑکی کے اپنی اس نے بھی پردے گرا لیے

میرے بھی راستے کی رکاوٹ نہیں رہی

اونیش تریویدی ابھے

زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی

مجھے یہ فکر ہے مجھ کو مرا دیدار ہو جائے

کیف بھوپالی

میری نگاہ شوق کا جادو بھی کم نہیں

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

انور شادانی

تجھے اک بار کیا واصفؔ نے دیکھا

تجھے پھر دیکھنے کی آرزو ہے

واصف علی واصف

خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز

دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز

مرزا غالب

دیدار ذوالجلال پہ آمادہ ہو گیا

کیا حوصلہ نگاہ دل ناتواں کا تھا

نور احمد شیخ

ترے رنگ و بو کو بھی دیکھتے نہ خیال تھا نہ مجال تھی

جو سکت ملی تجھے دیکھنے کی تو رنگ و بو سے نکل گئے

ادریس آزاد

ہو گئی دید موت سے پہلے

آج ارماں نکل گئے سارے

واصف علی واصف
بولیے