اونیش تریویدی ابھے
غزل 9
اشعار 8
نیند ویسے بھی نہیں آتی مگر
آنکھ میں اب بس خماری چاہیئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تنہائیاں سفر میں مسلسل بنی رہیں
پھر بھی تمہارا نام پکارے چلے گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کون رہتا ہے سفر میں عمر بھر
مستقل کوئی ٹھکانا چاہیئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کھڑکی کے اپنی اس نے بھی پردے گرا لیے
میرے بھی راستے کی رکاوٹ نہیں رہی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گھر بنانے میں عمر لگتی ہے
گھر میں بنتے مکان دیکھے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے