ادریس آزاد
غزل 22
اشعار 21
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا
چاند کی عید ہو گئی ہوگی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصر
راہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دن
اک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسے
جو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے