اردو شعری روایت میں فانی، اصغر، حسرت، سیماب، عزیز اور جگر جیسے شعرا کے تجربات جو بھی رہے ہوں، ادب اور سماج میں ان کا انجام بخیر رہا۔ انہوں نے عافیت کوشی کے سائبان میں گزر بسر کی اور چپ چاپ شعری تاریخ کا حصہ بن گئے۔ لیکن میرزا یگانہ چنگیزی کا معاملہ ان سب سے مختلف تھا۔ یگانہ کی زندگی جینے کا اور ان کی شاعری سوچنے کا ایک نیا ضابطہ تھی، جو اپنے عہد کے تمام مسلمہ اسالیب سے پیکار پر آمادہ اور پرشور تھی۔
یگانہ کی انفرادیت محض اجتماع سے الگ تھلگ رہنے کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد، آویزش اور آزمائش کا صلہ تھی۔ شمیم حنفی کے مطابق، یگانہ اپنے حال کے پس منظر میں تمام و کمال ایک 'آؤٹ سائیڈر' (Outsider) کی صورت ابھرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے فرد تھے جو کسی محدود اور ضابطہ بند معاشرے کی سنگینی میں بے دست و پائی سے زیادہ اس تضاد کا اظہار کرتے ہیں جو انہیں اپنے ماحول سے الگ اور بے سکون رکھتا ہے۔
انفرادی سطح پر سوچ بچار کی عادت رکھنے والا ہر شخص بعض ایسے خطرناک رویوں کا محافظ ہوتا ہے جو اس میں اور اس کے ماحول میں ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں۔ یگانہ نے مصلحت، سہولت یا خوف کی خاطر اپنے سچ کو دبانے سے انکار کر دیا۔ وہ اس رویے کے انجام سے بے خبر نہیں تھے۔ معاشرے سے اس تصادم میں یگانہ اپنی شکست کے منصب کا شعور بھی رکھتے تھے، اسی لیے ہر تباہی کے لیے ایک آمادگی ان کے مزاج میں ہمیشہ باقی رہی۔ رفتہ رفتہ شکستوں میں اپنی فتح اور خسارے میں اپنے اخلاقی نفع کی شناخت نے انہیں ضدی اور خودسر بنا دیا۔
یگانہ نے ہر اس رویے کی ہنسی اڑائی جسے ان کے معاشرے میں قبولیت ملی۔ غالب، اقبال، فانی سے لے کر ترقی پسندی اور آزاد نظم تک، یگانہ کے تمام محاربات اسی نفسیاتی ضد کے گرد گھومتے ہیں۔ تاہم، اس مسلسل جنگ نے انہیں اندر سے تھکا بھی دیا تھا۔ ان کی آخری برسوں کی شاعری، جب وہ ایک گہرے اعصابی تشنج سے دوچار تھے، اسی تھکن، اداسی اور تنہائی کے متین احساس کی عکاسی کرتی ہے:
اپنا گھر اپنی زمیں اپنا فلک بیگانہ
آشنا کوئی بجز سایہ دیوار نہیں
بڑھتے بڑھتے اپنی حدسے بڑھ چلا دست ہوس
گھٹتے گھٹتے ایک دن دست دعا ہو جائے گا
یہ اشعار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یگانہ نے اپنی انفرادیت اور سچائی کی خاطر ایک دشتِ خوابی سے گزرنے کا انتخاب کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ وہ اپنے افلاس کے باوجود تہی دست نہیں تھے، کیونکہ وہ ہر تجربے کا مول اپنی جیب سے چکانے کی استطاعت رکھتے تھے۔
