برصغیر پاک و ہند میں قوالی کے فن کو جو لازوال مقبولیت اور دوام حاصل ہوا ہے، اس کا سہرا بلاشبہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مریدِ خاص اور عظیم مفکر و شاعر حضرت امیر خسروؔ کے سر جاتا ہے۔ امیر خسرو کو متفقہ طور پر قوالی کا موجد تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے فن کی سچائی، گہرائی اور روحانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ سات صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کا ایجاد کردہ یہ فن پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور آج بھی اسے پسند کرنے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ موجود ہے۔
امیر خسرو کی شاعری اور قوالی میں جو بے پناہ مٹھاس اور کشش پائی جاتی ہے، اس کے پیچھے ایک مشہور صوفیانہ روایت بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ امیر خسرو اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ان کی شاعری میں ایسی شیرینی آ جائے جو دنیا میں بے مثال ہو۔ مرشدِ کامل نے اپنے اس چہیتے اور فرمانبردار مرید کی عرضی سنی اور ارشاد فرمایا کہ چارپائی کے نیچے شکر رکھی ہے، اسے نکالو، خود بھی کھاؤ اور حاضرین میں بھی تقسیم کر دو۔ خسرو نے اس حکم کی تعمیل کی، اور اس کے بعد ان کی زبان اور کلام میں وہ شیرینی پیدا ہوئی کہ آج سات سو سال بعد بھی اس کی مٹھاس میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔
امیر خسرو کی ولادت ۱۲۵۲ء (۶۵۱ ہجری) میں اترپردیش کے قصبے پٹیالی میں ہوئی، جو گنگا کے کنارے واقع ہے۔ ان کے والد امیر سیف الدین محمود ایک مہاجر ترک تھے، جبکہ والدہ ایک ہندوستانی نومسلم سیاستداں کی بیٹی تھیں۔ اس طرح خسرو کی رگوں میں ترک اور ہندوستانی خون کی آمیزش تھی۔ اسی ملاپ نے ان کے فن کو ایک انوکھا اور خالص ہندوستانی رنگ دیا۔ انہوں نے اپنی شاعری اور موسیقی میں کثرت میں وحدت کی وہ عظیم الشان مثال پیش کی جس کی تقلید بعد کے تمام فنکاروں نے کی۔
خسروؔ کو ان کے عہد کے بادشاہ نے ’’ملک الشعراء‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا، لیکن حقیقت میں وہ اقلیمِ سخن کے ایسے شہنشاہ ثابت ہوئے جس کی سلطنت کو آج تک کوئی چیلنج نہیں کر سکا۔ وہ برصغیر کی تمام زبانوں کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کی طرف منسوب قوالیاں جیسے ’’چھاپ تلک سب چھینی رے‘‘ اور ’’اے ری سکھی ری مورے خواجہ گھر آئے‘‘ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر آج بھی ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں۔ انہوں نے قوالی کی زبان کو فارسی سے نکال کر رفتہ رفتہ ہندوی اور اردو کے سانچے میں ڈھالا، جس سے اس فن میں اسی مٹی کی سوندھی خوشبو رچ بس گئی اور یہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔
