ہر سماج میں حقیقی فنکار اور شاعروں کی تعداد ہمیشہ محدود ہوتی ہے، کیونکہ شاعر کا دل عام انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ فراق گورکھپوری کے مطابق، پوری انسانیت جس داخلی انتشار اور پریشاں خاطری کا شکار رہتی ہے، وہ ایک شاعر کے اندر انتہائی شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ بحران اتنا غیر معمولی ہوتا ہے کہ شاعر کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ شاعر اس کرب کو خاموشی سے نہیں سہتا بلکہ اسے تخلیق کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔
اس تخلیقی عمل کی شدت اور شاعر کے اندرونی کرب کو میر تقی میر نے کیا خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
مجھ کوشاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم لاکھوں کئے جمع تو دیوان کیا
یہ شعر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعری محض الفاظ کا ہیر پھیر نہیں بلکہ لاکھوں درد و غم کو سمیٹ کر انہیں ایک جمالیاتی شکل دینے کا نام ہے۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ شاعر کے ذاتی دکھ سکھ، اس کا غم و غصہ اور اس کے ذاتی تجربات محض اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ یہ تاثرات اس کی ذات کی سرحدوں کو توڑ کر اس کے وجدان اور جمالیاتی احساس کے عالم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اس وجدانی کیفیت میں ایک حیرت انگیز کیمیاوی عمل ہوتا ہے۔ انتشار، تنظیم کی شکل اختیار کر لیتا ہے؛ غیر ہم آہنگی، ہم آہنگی میں بدل جاتی ہے؛ اور زندگی کا بے سُرا پن، شعور اور تجربے کی مسحور کن موسیقی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی داخلی عمل کے ذریعے شعر تخلیق پاتا ہے۔ تخلیقِ شعر کے وقت شاعر اپنے اس بکھرے ہوئے وجود کو دوبارہ پا لیتا ہے جسے دنیاوی انتشار نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔
شاعر کا یہ انفرادی عمل پورے سماج کے لیے شفا کا باعث بنتا ہے۔ وہ ہزاروں لوگ جو خود شعر کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جب اس کلام کو سنتے ہیں تو اپنی ٹوٹی پھوٹی ہستیوں کو پھر سے جڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ شاعر بظاہر معاشرے کو کوئی مادی شے نہیں دیتا، لیکن بباطن وہ شعر کے پردے میں لوگوں کی داخلی زندگی کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ وہ ان کے کرخت تجربوں کو مترنم بناتا ہے اور ان کے ذہن کی دھندلی تصویروں کو واضح کر کے انہیں زندگی کا اصل نسخہ عطا کرتا ہے۔
