Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وصل پر اشعار

میری ہر شب اسی امید میں کٹ جاتی ہے

وہ ابھی آیا ابھی میرا مقدر جاگا

شاد فدائی دہلوی

دم محبت کا بھرا کرتا تھا جو دل وصل میں

اب وہ شام ہجر آتے ہی پشیماں ہو گیا

فاضل کاشمیری

وعدۂ وصل نہ ہوتا تو ہم ایسے بھی نہ تھے

کہ ہمیں ہجر میں مرنا نہ گوارا ہوتا

سید یوسف علی خاں ناظم

میں چاہتا ہوں کوئی نقش وصل کا ابھرے

اے رنگ حسن مرے دل کے کینوس پہ برس

سید احمد

برسوں بعد اس ہجر کے پیڑ پہ مور آئے

برسوں بعد اس پیڑ پہ کوئل بولی ہے

راہی معصوم رضا

وصل کا لطف شب ہجر کے مارے یوں لیں

نیند آ جائے جو دونوں کو تو خوابوں میں ملیں

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

مہندی میں لالی جس طرح کانوں میں بالی جس طرح

جب یوں ملے تو کیا چلے دنیا کا ہم پہ داؤں رے

حسن کمال

ہر غزل اور فسانے میں ہے چرچا جس کا

میں نے وہ شام ترے ساتھ گزاری ہوئی ہے

ذکیہ غزل

ہمارے پاس ہی وہ آ رہے تھے

بجا ہے ہم وہاں بے جا گئے ہیں

واصف علی واصف

نور سحر و رنگ سحر پر نہیں موقوف

دشمن ہے شب وصل میں آواز اذاں تک

شاغل عثمانی

کچھ وصل کے آداب ہیں کچھ عشق کی رسمیں

دریا سے گلے ملنے سمندر نہیں جاتا

محی الدین وارث

امید وصل ہی چھینے ہے دل کا چین و قرار

غم فراق تو ورنہ سکوں کا حاصل ہے

زروا رائے
بولیے