ذکیہ غزل
غزل 29
اشعار 11
آج یادوں کی گھٹا ٹوٹ کے برسی ہے غزلؔ
اک اداسی ہے جو پھر شام سے طاری ہوئی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
درد کی صلیبوں پر لاش ہو چکے نالے
بے ضمیر حاکم کو عدل کی گواہی کیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گزرے کل تک جو لگا کرتی تھی پھولوں جیسی
آج وہ زیست مری جان پہ بھاری ہوئی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہر غزل اور فسانے میں ہے چرچا جس کا
میں نے وہ شام ترے ساتھ گزاری ہوئی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے