بیسویں صدی کے وسط میں جب ہندوستان میں آزادیِ نسواں کی تحریک ابتدائی مراحل میں تھی، اردو ادب میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی نے جنس اور عورت کے موضوع پر قلم اٹھا کر تہلکہ مچا دیا۔ صدیوں سے چادر اور چار دیواری میں محبوس اور مردانہ تشدد کا شکار عورت اب نئی تعلیم اور شعور کے زیرِ اثر اپنے حقوق کی بات کر رہی تھی۔ اس سماجی تبدیلی کو عصمت چغتائی اور منٹو نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا، لیکن دونوں کے ہاں عورت کا ساختیہ (Construct) ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔
عصمت چغتائی نے عورت کے اس نئے رویے کو 'بغاوت' کا نام دیا۔ ان کے افسانوں کی عورت مرد کی عائد کردہ اخلاقیات، جو اصلاً پدرانہ نظام (Phallogocentrism) کا حصہ تھی، کا منہ چرانے پر مستعد نظر آتی ہے۔ چونکہ مردانہ اخلاقیات کا سارا زور عورت کی 'پاکیزگی' پر رہا ہے، اس لیے عصمت نے اسی میدان میں عورت کی بغاوت کو ابھارا۔ عصمت کی عورت کالی کے روپ کی علمبردار ہے، جو اخلاقی بندشوں اور زنجیروں کو توڑتی ہے۔ ان کے کردار اندر اور باہر، دونوں سطحوں پر باغی ہیں اور مرد سماج میں ایک 'متوازی ریاست' قائم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ ایک یک زبانی (Synchronic) رویہ ہے جہاں کردار کی ہر پرت اس کی بغاوت کو مزید توانا کرتی ہے۔
دوسری جانب، منٹو کا معاملہ نہایت دلچسپ اور پیچیدہ ہے۔ شعوری سطح پر منٹو بھی ایک ایسی ہی جاندار اور باغی عورت کے گرویدہ ہیں جو مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اور اس کی تابع مہمل بننے پر آمادہ نہ ہو۔ اپنے مضمون 'لذتِ سنگ' میں منٹو نے واضح کیا کہ انہیں چکی پیسنے والی اور خاوند سے مار کھا کر جوتے صاف کرنے والی عورت سے کوئی ہمدردی نہیں۔ انہیں چکلے کی رنڈی کی غلاظت، گالیاں اور چڑچڑاپن بھاتا ہے جو مرد سے لڑ کر سینما چلی جاتی ہے۔ منٹو شعوری طور پر عورت کو ثقافتی قید و بند سے نکال کر جنس کی فطری سطح پر لانا چاہتے تھے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر، منٹو کے افسانوں کا گہرا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی عورت صرف بالائی سطح پر باغی ہے۔ بباطن وہ اسی بے دست و پا عورت کا روپ ہے جو مرد کے تشدد کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے ہمہ وقت اس 'انجن' کا خواب دیکھتی ہے جو اسے اپنے پلو سے باندھ لے۔ منٹو کے نسوانی کردار صدیوں پرانی ہندوستانی عورت کے ساختیہ کے مطابق ڈھل جانے کے آرزو مند ہیں۔ وہ مرد کی اخلاقیات سے بغاوت کرنے کے بجائے خود مصنف (منٹو) کے شعوری ارادوں سے بغاوت کر بیٹھتے ہیں اور اپنے اصل، یعنی وفا، مامتا اور پتی پوجا کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
