ہندوستان کی لسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس خطے میں زبانوں کے ارتقاء کا ایک طویل اور پیچیدہ سلسلہ رہا ہے۔ فراق گورکھپوری اپنے مضمون میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قدیم ہندوستان کے مختلف حصوں میں علمائے کرام اور پڑھے لکھے طبقے کی زبان سنسکرت تھی۔ یہ زبان علم، مذہب اور فلسفے کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اس کے برعکس عام لوگوں کے رابطے اور بول چال کا ذریعہ پراکرت تھی۔ پراکرت کو اس دور کی ہندوستانی، ہندی یا اردو کا ابتدائی روپ بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ براہ راست عوام کے دلوں کی دھڑکن اور ان کے روزمرہ کے معاملات کی ترجمان تھی۔
زبانوں کے اس فطری ارتقاء میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب مہاتما گوتم بدھ نے اپنی تعلیمات کا پرچار شروع کیا۔ اس وقت تک پراکرت ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی پالی زبان کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ مہاتما بدھ نے اپنی حکیمانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے خواص کی زبان سنسکرت کے بجائے عوام کی زبان پالی کو اپنے وعظ و نصیحت کا ذریعہ بنایا۔ یہ ایک انقلابی قدم تھا جس نے نہ صرف بدھ مت کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی بلکہ پالی زبان کو بھی ایک نیا وقار بخشا۔
مہاتما بدھ کی اس کاوش کا نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخ میں پہلی بار عوام کی ایک عام سی بولی نے باقاعدہ علمی اور ادبی زبان کا مرتبہ حاصل کر لیا۔ بدھ مت کا بیشتر علمی، مذہبی اور ادبی سرمایہ اسی پالی زبان میں تخلیق کیا گیا اور محفوظ ہوا۔ یہ زبان اتنی مقبول ہوئی کہ اندازاً ایک ہزار برس تک ہندوستان کے طول و عرض میں پالی زبان اور اس کے ادب کا طوطی بولتا رہا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبانوں کا یہ دھارا مزید آگے بڑھا۔ ایک ہزار سال کے طویل عرصے کے بعد پالی اور پراکرت نے ایک بار پھر کروٹ لی۔ ہندوستان کے مختلف خطوں میں ان زبانوں نے مقامی اثرات اور سنسکرت کے الفاظ کو اپنے اندر سمونا شروع کر دیا۔ اس لسانی ملاپ اور ارتقاء کے نتیجے میں کئی نئی علاقائی زبانوں نے جنم لیا، جن میں بنگالی، مراٹھی، گجراتی، سندھی، ہندی اور پنجابی نمایاں ہیں۔ یہاں تک کہ جنوبی ہند کی زبانوں مثلاً تامل اور تیلگو پر بھی دکن کی پراکرت اور پالی کے اثرات مرتب ہوئے۔
اس طرح قدیم ہندوستان میں سنسکرت، پراکرت اور پالی کے ذریعے زبانوں کے ارتقا کا ایک طویل سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ ان زبانوں نے اپنے اپنے دور میں علم و ادب کو فروغ دیا۔ بعد کے زمانے میں ان کے اثرات نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کئی علاقائی زبانوں کے ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
