شاعری میں تخیل کی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن ہر طاقتور چیز کی طرح تخیل کو بھی ایک حد اور اعتدال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس نازک پہلو پر نہایت بصیرت افروز بحث کی ہے کہ تخیل کو کبھی بھی طبیعت پر اس حد تک غالب نہیں آنے دینا چاہیے کہ وہ 'قوتِ ممیزہ' (عقل اور پرکھنے کی صلاحیت) کے دائرہ کار سے باہر ہو جائے۔ قوتِ ممیزہ دراصل تخیل کی روک ٹوک کرنے والی وہ طاقت ہے جو اسے بے راہ روی سے بچاتی ہے۔
قوتِ متخیلہ کی فطرت میں خلاقی اور بلند پروازی شامل ہے۔ وہ ہمیشہ نئی اڑان بھرنے کے لیے بے تاب رہتی ہے۔ لیکن قوتِ ممیزہ اس کی پرواز کو محدود کرتی ہے، اس کی بے جا خلاقی کے راستے میں مزاحم ہوتی ہے اور اسے ایک قدم بھی بے قاعدہ نہیں چلنے دیتی۔ جب تک تخیل قوتِ ممیزہ کا محکوم رہتا ہے، شاعر کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ اس کی پرواز جتنی بلند ہوگی، شاعری اسی قدر اعلیٰ درجے کی ہوگی۔ دنیا کے تمام عظیم شعراء کے یہاں تخیل کی بلند پروازی اور قوتِ ممیزہ کی سخت حکومت، دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کا تخیل نہ خیالات میں بے اعتدالی کرتا ہے اور نہ الفاظ میں کج روی اختیار کرتا ہے۔
لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہو جائے اور تخیل قوتِ ممیزہ پر غالب آ جائے، تو یہ شاعر کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ حالی اس کیفیت کو ایک ایسے چالاک گھوڑے سے تشبیہ دیتے ہیں جس کے منہ میں لگام نہ ہو اور سوار اس کی پیٹھ پر ہو۔ اس بے لگام آزادی نے ہزاروں ہونہار شاعروں کو گمراہ کیا ہے۔ تخیل کی یہ مطلق العنانی اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب شاعر کے پاس مطالعہ کائنات اور حقائق کا ذخیرہ (جو تخیل کی اصل غذا ہے) موجود نہیں ہوتا۔
جس طرح ایک بھوکا انسان جب صحت بخش غذا نہیں پاتا تو مجبوراً غیر معیاری چیزوں سے پیٹ بھر کر اپنی صحت تباہ کر لیتا ہے، بالکل اسی طرح جب تخیل کو اصلی اور فطری غذا نہیں ملتی، تو وہ دور از کار اور غیر حقیقی خیالات تراشنے لگتا ہے۔ وہ ایسے خیالات کو زبردستی شعر کا لباس پہناتا ہے جن کا اصلیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس حالت میں شاعر قوتِ ممیزہ کو اپنے کلام میں خلل انداز سمجھ کر اس کی بغاوت کرتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ 'مہمل گو' بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے ہی شعراء کے بارے میں کہا گیا ہے:
جانتا قدرت کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
لہٰذا، شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ بند کمرے میں بیٹھ کر کاغذ کے مصنوعی پھول بنانے کے بجائے، باہر نکل کر قدرت کے کارخانے میں بکھرے ہوئے اصلی پھولوں اور حقائق کا مشاہدہ کرے، تاکہ اس کا تخیل صحت مند اور متوازن رہے۔
