شاعری، بالخصوص اردو اور عالمی رومانی شاعری میں، 'جنون' کو ہمیشہ ایک بلند مرتبہ حاصل رہا ہے۔ ارسطو سے لے کر شیکسپیئر تک، شاعر اور مجنون کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا گیا ہے۔ میر تقی میر ہوں یا فرانسیسی شاعر بودلیئر، ان کے یہاں عقل کی نفی اور تخیلی یا وجدانی طرزِ افہام پر اصرار ملتا ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، غالب کا شعری مزاج اس روایتی 'جنون' سے یکسر مختلف ہے۔
غالب کے کلام کی اساس جذبے سے زیادہ تجربے اور جذباتیت سے زیادہ عقلیت پر ہے۔ ان کے یہاں وہ جنون مفقود ہے جو اشیاء کی وحدت کو پہچانتا ہے اور کائنات کے مظاہر میں خود کو گم کر دیتا ہے۔ میر کے یہاں موت کا تصور ایک جذباتی اور حسی تجربہ ہے:
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزا جانا
لیکن یہی موت جب غالب کے یہاں آتی ہے، تو وہ ذہنی چلبلے پن، تازہ گفتاری اور عقلی شکست و ریخت کے مواقع فراہم کرتی ہے:
مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
وائے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
بہار حیرت نظارہ سخت جانی ہے
حنائے پائے اجل خون کشتگاں تجھ سے
غالب کے یہاں بلاواسطہ علم یا وجدان پر وہ شدت نہیں ملتی جو رومانی شعراء کا خاصہ ہے۔ وہ بالِ عنقا اور سایۂ ہما کا ذکر تو کرتے ہیں، لیکن شاید ان پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کی رومانیت بغاوت کی رومانیت ضرور ہے، لیکن وہ دل کو روکے رہتے ہیں اور دماغ کو آگے لاتے ہیں۔
فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ غالب کا کلام ایک ایسے ہوش مند اور تعقل کوش انسان کا کلام ہے جو داخل سے خارج میں نفوذ تو کرتا ہے لیکن خود اس کا وجود برقرار رہتا ہے۔ وہ اپنے وجود کو ایک لیور (Lever) کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے خارج کی حقیقت کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔ عقل اشیاء کی نیرنگی کو پہچانتی ہے اور سہل حقیقتوں میں بھی وہ جہتیں ڈھونڈتی ہے جو دوسروں کی نظر سے پوشیدہ تھیں۔ چونکہ عقل کا اسلوب سادہ نہیں ہو سکتا، اس لیے غالب کا کلام مشکل اور پیچیدہ ہے۔ ان کا اشکال پیچیدہ عبارت آرائی کا نہیں، بلکہ ایک فکری سلسلے کی آخری کڑی ہے جس میں وجدان ایک ہمہ جہت عقل کا تابع ہے۔
