اردو تنقید کی تاریخ میں میر تقی میر کے حوالے سے ایک طویل عرصے تک یہ غلط فہمی رائج رہی کہ وہ خالصتاً روزمرہ اور بول چال کی زبان کے شاعر ہیں۔ اس غلط فہمی کو تقویت اس مشہور واقعے سے ملی جس میں میر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ان کی زبان کی سند جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ملتی ہے۔ اگرچہ محاورے اور تلفظ کی حد تک اس بیان کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسے میر کی شعری زبان کے جوہر پر منطبق کرنا ایک غیر تنقیدی اور سطحی کارروائی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی جیسے محققین نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ میر کی روح اور ان کے فن کی گہرائی سے بے خبری ہی اس قسم کے دعووں کو جنم دیتی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میر عام معنوں میں روزمرہ کے شاعر ہرگز نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے روزمرہ کی زبان پر مبنی شاعری لکھی ضرور ہے، لیکن اسے ایک ایسے درجے پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ ایک اعلیٰ ترین شاعرانہ اظہار بن جاتی ہے۔ یہ عظیم کارنامہ میر سے اس طرح انجام پایا کہ انہوں نے کئی طرح کے لسانی اور شاعرانہ وسائل کو ایک خاص ترکیب اور تناسب کے ساتھ استعمال کیا۔ اگر شاعری محض روزمرہ زبان کو منظوم کرنے کا نام ہوتا، تو شاعری کا یہ کھیل کوئی بھی میر کی طرح کھیل لیتا۔ لیکن میر کا اسلوب ان کی ہنرمندی اور لسانی درک کا نتیجہ ہے۔
کسی بھی شاعر کے اپنے کلام کے بارے میں بیانات کو اسی وقت معتبر جاننا چاہیے جب اس کے کلام سے ان بیانات کی تصدیق ہوتی ہو۔ میر کے یہاں زبان کی سادگی دراصل ایک پردہ ہے جس کے پیچھے معانی کا ایک وسیع اور پیچیدہ نظام کارفرما ہے۔ انہوں نے عام فہم الفاظ کو اس طرح برتا ہے کہ ان میں تصورات اور تخیل کی وہ اڑان پیدا ہو گئی ہے جو خالص فلسفیانہ مضامین میں بھی بمشکل نظر آتی ہے۔
لہٰذا، میر کے اسلوب کو محض سادی اور سریع الفہم کہنا، اور ان کے ابہام، پیچیدگی، کثیر المعنویت اور غیر معمولی زورِ بیان کو نظر انداز کرنا، نہ صرف میر بلکہ پوری اردو شاعری کے ساتھ ایک بڑی زیادتی ہے۔ میر کی آفاقیت اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ عام اور روزمرہ کی باتوں کو بھی انکشاف کا درجہ بخش دیتے ہیں، اور یہ ان کے اسلوب کا وہ کرشمہ ہے جو انہیں خدائے سخن کے منصب پر فائز کرتا ہے۔
