شاعری میں استعارے کی اہمیت سے کوئی بھی باشعور قاری انکار نہیں کر سکتا۔ قدیم مشرقی تنقید سے لے کر جدید مغربی مفکرین تک، سب نے استعارے کو شاعری کا جوہر تسلیم کیا ہے۔ میر تقی میر کے کلام کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے استعارہ اور کنایہ کو بکثرت اور نہایت ہنرمندی سے استعمال کیا ہے۔ آئی۔ اے رچرڈس (I.A. Richards) کا یہ قول میر کی شاعری پر پوری طرح صادق آتا ہے کہ جذبات کے نازک اور باریک پہلوؤں کا اظہار استعارے کے بغیر ناممکن ہے۔
کلینتھ بروکس (Cleanth Brooks) جیسے مغربی نقاد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شاعر کو مشابہتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن تمام استعارے ایک ہی سطح پر نہیں ہوتے۔ استعاروں کی سطحیں آگے پیچھے اور اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں، جو تناقضات اور تضادات کو راہ دیتی ہیں۔ بروکس اس عمل کو 'قولِ محال' (Paradox) اور 'طنز' (Irony) کا نام دیتا ہے۔ میر کے استعاروں میں بھی طنز اور قولِ محال کی یہ کارفرمائی پوری شدت کے ساتھ نظر آتی ہے۔ وہ محض لفظی خوبصورتی کے لیے استعارہ نہیں لاتے، بلکہ اس کے ذریعے معنی کی ایک نئی دنیا خلق کرتے ہیں۔
مغربی تنقید اگرچہ 'کنایہ' کی اصطلاح سے اس طرح واقف نہیں جس طرح مشرقی تنقید ہے، لیکن کنایہ بھی دراصل استعارے ہی کی ایک شق ہے۔ کنایے میں کسی معنی کو براہ راست ادا کرنے کے بجائے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو اس معنی پر دلالت کریں۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مغرب میں یہ نظریہ عام ہوا کہ استعارہ محض ایک تزئینی چیز ہے، جس سے شاعری کو نقصان پہنچا۔ لیکن ہماری مشرقی روایت میں، اور خاص طور پر میر کے یہاں، استعارہ علمِ بیان کا وہ لازمی حصہ ہے جس کے ذریعے ایک ہی معنی کو کئی طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
ارسطو نے بجا طور پر کہا تھا کہ استعارے پر قدرت ہونا سب صلاحیتوں سے بڑھ کر ہے اور یہ نابغہ (Genius) کی علامت ہے۔ میر کا زمانہ آتے آتے استعارے کی حیثیت مضمون کے تصور میں اس طرح ضم ہو گئی تھی کہ اس کا الگ سے ذکر کم ہوتا تھا، لیکن میر نے پرانے استعاروں کو نیا رنگ دیا اور نئے استعارے تراشے۔ ان کے یہاں استعارہ محض ایک شعری صنعت نہیں، بلکہ کائنات اور انسانی جذبات کو سمجھنے اور سمجھانے کا ایک طاقتور ترین وسیلہ ہے۔
