Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

ذکیہ غزل

ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

ذکیہ غزل

MORE BYذکیہ غزل

    ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

    تم نے دیکھے ہیں کہاں جیت کے ہارے ہوئے لوگ

    سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم

    سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ

    ایک ہم ہی تو نہیں درد شکستہ کی مثال

    ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ

    اب کسی ترک تعلق کا گلہ ہے نہ ملال

    دل میں رہتے ہیں کہاں دل سے اتارے ہوئے لوگ

    یاد کے ابر میں چمکا کوئی بھٹکا جگنو

    چاند کی دید میں جاگے تو ستارے ہوئے لوگ

    دل کی پتھرائی ہوئی آنکھ میں دریا چپ تھا

    اور دریا کا چلن دیکھ کنارے ہوئے لوگ

    درد کی جھیل میں قصے تھے تہہ آب رواں

    جب سنے ہم سے زبانی تو ہمارے ہوئے لوگ

    آج کانٹوں سے بھرا لاکھ ہو دامن اپنا

    تھے کبھی ہم بھی غزلؔ پھول سے وارے ہوئے لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے