ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ
ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ
تم نے دیکھے ہیں کہاں جیت کے ہارے ہوئے لوگ
سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم
سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ
ایک ہم ہی تو نہیں درد شکستہ کی مثال
ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ
اب کسی ترک تعلق کا گلہ ہے نہ ملال
دل میں رہتے ہیں کہاں دل سے اتارے ہوئے لوگ
یاد کے ابر میں چمکا کوئی بھٹکا جگنو
چاند کی دید میں جاگے تو ستارے ہوئے لوگ
دل کی پتھرائی ہوئی آنکھ میں دریا چپ تھا
اور دریا کا چلن دیکھ کنارے ہوئے لوگ
درد کی جھیل میں قصے تھے تہہ آب رواں
جب سنے ہم سے زبانی تو ہمارے ہوئے لوگ
آج کانٹوں سے بھرا لاکھ ہو دامن اپنا
تھے کبھی ہم بھی غزلؔ پھول سے وارے ہوئے لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.