مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباس زیست
بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ
-
موضوعات : دنیااور 2 مزید
نیزہ ہو کہ پیالہ لب انکار سلامت
یہ سلسلہ سقراط سے شبیر تلک ہے
میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر
اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا
جگہ جگہ تھے بھنور عشق کے سمندر میں
وہ خود بھی ڈوب گیا تھا مجھے بچاتے ہوے
پاسبانی کرتے کرتے اس کی آنکھیں بجھ گئیں
عمر بھر جو خواہش تعمیر در کرتا رہا
اک حیات نو چھپی ہے کربلا کی راہ میں
کربلا راہ عمل ہے منزل ماتم نہیں
وہی ناقدریٔ ابنائے جہاں ہے لیکن
جاں نثاری وہی ایمان وفا آج بھی ہے