اردو شاعری پر اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ مناظرِ قدرت، عام زندگی اور معمولی درجے کے لوگوں کے ذکر سے خالی ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی نے میر تقی میر کی مثنویوں اور ہجوؤں کے حوالے سے اس طلسم کو توڑ دیا ہے۔ میر کا کلام ایک 'زندہ عجائب گھر' ہے جہاں روزمرہ کی اشیا، موسموں کی شدت اور عام زندگی کے مناظر پوری جزئیات کے ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔
میر کی مثنوی 'در ہجو خانۂ خود' ایک خستہ حال اور ٹوٹے پھوٹے مکان کی ایسی شاندار اور مزاحیہ منظر کشی ہے جس میں معماری کی اصطلاحات (جیسے داسا، کڑی، وصید، زلفی زنجیر) کا کمال استعمال ملتا ہے:
لونی لگ لگ کے جھڑتی ہے ماٹی
آہ کیا عمر بے مزہ کاٹی
اکھرے پکھڑے کواڑ ٹوٹی وصید
زلفی زنجیر ایک کہنہ حدید
اسی طرح بارش اور سیلاب کا بیان میر کی مثنوی 'در مذمت برشگال' میں اس قدر جاندار ہے کہ قاری خود کو پانی میں بھیگتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ میر نے بارش کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے جو استعارے تراشے ہیں، وہ ان کی خلاقانہ قدرت کا ثبوت ہیں:
خضر کیونکر کے زیست کرتا ہے
آب حیواں میں پانی مرتا ہے
میر صرف شہر تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے دیہات اور جنگلوں کے سفر بھی کیے۔ 'تسنگ نامہ' میں ایک گاؤں کی ٹوٹی ہوئی مسجد، بارش میں پناہ کی تلاش اور وہاں موجود آوارہ کتوں کا بیان اس قدر حقیقت پسندانہ اور ظریفانہ ہے کہ پطرس بخاری کا مشہور مضمون 'کتے' یاد آ جاتا ہے۔ میر کتوں کی شرارتوں کا ذکر یوں کرتے ہیں:
ایک نے آ کے دیگچہ چاٹا
ایک آیا سو کھا گیا آٹا
یک طرف ہے چیڑ چیڑ کی صدا
یعنی کتا ہے چکی چاٹ رہا
ان اشعار میں دیگچہ، آٹا، چکی، کالی ہانڈی، اور تیل کی کپی جیسی معمولی گھریلو اشیا کا ذکر ہے۔ میر کے ہم عصروں (جیسے مصحفی یا قائم) نے بھی موسموں پر نظمیں لکھیں، لیکن ان کے یہاں محسوسات کی جگہ خیال بندی اور تعقلاتی لطف زیادہ ہے۔ میر کے یہاں براہِ راست محسوسات، زندگی سے شغف اور زبان پر وہ سحر انگیز گرفت ہے جو انہیں شیکسپیئر کا ہم پلہ بناتی ہے۔
