اردو غزل کی تاریخ میں کئی ایسے موڑ آئے ہیں جہاں زبان و بیان نے نئے راستے تلاش کیے، لیکن فراق گورکھپوری کا ظہور ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے اردو شاعری کو اس کی اصل ہندوستانی جڑوں سے دوبارہ روشناس کرایا۔ گوپی چند نارنگ کے مطابق، فراق کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خدائے سخن میر تقی میر کی شعری روایت کی بازیافت کی۔ اردو شاعری میں ہندوستانی لہجہ پہلے بھی موجود تھا، لیکن فراق نے صدیوں کی آریائی روح سے ہم کلام ہو کر اسے ایک نئی تخلیقی سطح عطا کی۔ انہوں نے میر کے دھیمے پن، سوز و گداز اور دروں بینی کو جدید انسان کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔
فراق کی غزلوں میں ایک عجیب سی کسک اور لطافت ہے جو براہِ راست میر کی یاد دلاتی ہے، لیکن اس میں جدید دور کے کرب کی آمیزش بھی ہے۔ انہوں نے کلاسیکی غزل کے روایتی استعاروں کو ترک کیے بغیر ان میں نئے معانی پہنائے۔ ان کے یہاں محبت کا اظہار محض روایتی نہیں بلکہ اس میں ایک گہرا نفسیاتی اور جذباتی رچاؤ ہے۔ وہ جب ہجر و وصال کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایک پوری تہذیب کا درد سمٹ آتا ہے۔ ذیل کے اشعار میں میر کی سی سادگی اور پرکاری کا عکس واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے:
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم
جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی
فراق نے اپنی تاثراتی تنقید اور مضامین کے مجموعے 'اندازے' کے ذریعے بھی کلاسیکی شاعروں کی قدر سنجی کی اور نئی نسل کو میر کی روایت سے جوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ناصر کاظمی جیسی جدید غزل کے معماروں کی مقبولیت کا سیدھا رشتہ میر کی روایت کے واسطے سے فراق سے جا ملتا ہے۔ فراق نے ثابت کیا کہ عظیم شاعری اپنے ماضی سے کٹ کر نہیں بلکہ اس کی راکھ سے نئی چنگاریاں چن کر ہی وجود میں آتی ہے۔
