حُسنِ کلام کا ایک نہایت باریک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مضامین کی نوعیت کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب کیا جائے۔ لفظ چونکہ آواز کی ایک قسم ہے، اور آوازیں مہیب، پُر رعب، سخت، نرم، شیریں اور لطیف جیسی مختلف خصوصیات رکھتی ہیں، اسی طرح الفاظ بھی اپنی صورت اور وزن کے اعتبار سے مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ بعض الفاظ نرم اور شیریں ہوتے ہیں جو دل کے تاروں کو چھیڑتے ہیں، بعض سے جلال اور شان و شوکت ٹپکتی ہے، اور بعض سے درد اور غمگینی کا گہرا احساس ظاہر ہوتا ہے۔
اسی صوتی اور معنوی مزاج کی بنا پر اصنافِ سخن کے لیے الگ الگ الفاظ مختص کیے گئے ہیں۔ غزل، جس کا موضوع عشق و محبت اور لطیف جذبات ہیں، اس میں سادہ، شیریں، سہل اور نرم الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، قصیدے میں جہاں ممدوح کی شان و شوکت بیان کرنی ہوتی ہے، وہاں پُر زور، شاندار اور بھاری بھرکم الفاظ کا استعمال پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ رزم (جنگ) اور بزم (محفل)، مدح اور ذم، فخر اور حسرت، وعظ اور پند، ان میں سے ہر ایک مضمون کے لیے جداگانہ الفاظ موزوں ہیں۔
جو شعرا اس فرقِ مراتب سے واقف ہیں، وہ اپنے کلام میں اس کا بھرپور لحاظ رکھتے ہیں، اور یہی ان کے کلام کی تاثیر کا سب سے بڑا راز ہے۔ لیکن جو اس نکتے سے ناآشنا ہیں، یا جن پر کسی ایک خاص رنگ کا غلبہ اس قدر ہو چکا ہے کہ وہ ہر قسم کے مضمون میں ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، ان کا کلام بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ سعدی، جو بزم اور اخلاقیات کے بادشاہ ہیں، ان سے رزم (جنگ) کا بیان اس طرح نہیں نبھ سکتا جیسے فردوسی سے۔ اور فردوسی، جو شاہنامہ کا خالق اور رزم کا امام ہے، جب حضرت یوسف کی نالہ و زاری بیان کرتا ہے تو اس کے قلم سے بے ساختہ جنگی الفاظ نکل جاتے ہیں: 'بغرید یوسف دگر بارہ زار' (یوسف دوبارہ زور سے دھاڑے)۔
اردو مرثیے میں اس مناسبت کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ جب کسی بہادر کے جلال اور غیظ و غضب کو بیان کرنا ہو تو الفاظ بھی ویسے ہی ہیبت ناک ہونے چاہئیں۔ میر انیس اور دیگر مرثیہ نگاروں کے یہ اشعار دیکھیے:
کم تھا نہ ہمہمہ اسدِ کردگار سے
نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھار سے
کیا جانے کس نے ٹوک دیا ہے دلیر کو
سب دشت گونجتا ہے یہ غصہ ہے شیر کو
تھا یہ بپھرا ہوا عباس مرا شیرِ جواں
سینہِ حر پہ رکھے دیتا تھا نیزے کی سناں
ان اشعار میں 'ہمہمہ'، 'ڈکارتا'، 'ضیغم'، 'بپھرا ہوا' جیسے الفاظ محض غیظ و غضب کے معنی ہی نہیں دیتے، بلکہ ان الفاظ کی آواز، ان کی ساخت اور ان کے لہجے سے بھی ہیبت، جلال اور غصے کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ یہی معانی اور الفاظ کی وہ کامل مناسبت ہے جو کلام کو امر کر دیتی ہے۔
