Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گرمی پر اشعار

شاعری میں کوئی لفظ کسی

ایک خاص تصورسےبندھ کرنہیں رہتا۔ ہرتخلیقی ذہن اپنے لفظوں اوراپنے اظہاری وسیلوں کا ایک الگ تناظراورسیاق رکھتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دھوپ اوردوپہرکے لفظ کتنے متنوع معنویاتی زاویے رکھتے ہیں۔ یہ زندگی کی سختی اورشدت کی علامت بھی ہیں اوراس کےبرعکس بھی۔

دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے

وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بیدل حیدری

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے

راحت اندوری

یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں

اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

ناصر کاظمی

یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی

کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

اطہر نفیس

شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ

سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے

شکیل جمالی

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

اعتبار ساجد

آتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہ

اس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی

نظیر اکبرآبادی

پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔ

پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون

اکبر الہ آبادی

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر

بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانا زمین پر

میر انیس

بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں

تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں

صاحبہ شہریار

سورج سر پہ آ پہنچا

گرمی ہے یا روز جزا

ناصر کاظمی

سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو

ناصر کاظمی

تو جون کی گرمی سے نہ گھبرا کہ جہاں میں

یہ لو تو ہمیشہ نہ رہی ہے نہ رہے گی

شریف کنجاہی

گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو

اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی

خلیل رامپوری

دھوپ کی گرمی سے اینٹیں پک گئیں پھل پک گئے

اک ہمارا جسم تھا اختر جو کچا رہ گیا

اختر ہوشیارپوری

اتارو بدن سے یہ موٹے لباس

نہیں دیکھتیں گرمیاں آ گئیں

محمد اعظم

گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی

ہر طور غرض آپ سے ملنا ہی کم اچھا

انشا اللہ خاں انشا

کیوں تری تھوڑی سی گرمی سیں پگھل جاوے ہے جاں

کیا تو نیں سمجھا ہے عاشق اس قدر ہے موم کا

آبرو شاہ مبارک

گرمی سی یہ گرمی ہے

مانگ رہے ہیں لوگ پناہ

عبید صدیقی

گرمیوں بھر مرے کمرے میں پڑا رہتا ہے

دیکھ کر رخ مجھے سورج کا یہ گھر لینا تھا

غلام مرتضی راہی

قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد

یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

مضطر خیرآبادی

تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ

جھلس رہی ہے زمانے کو انتشار کی دھوپ

علی عباس امید

گرمی جو آئی گھر کا ہوا دان کھل گیا

ساحل پہ جب گیا تو ہر انسان کھل گیا

خالد عرفان

پگھلتے دیکھ کے سورج کی گرمی

ابھی معصوم کرنیں رو گئی ہیں

جالب نعمانی

گرمی میں تیرے کوچہ نشینوں کے واسطے

پنکھے ہیں قدسیوں کے پروں کے بہشت میں

منیر  شکوہ آبادی

ستم گرمیٔ صحرا مجھے معلوم نہ تھا

خشک ہو جائے گا دریا مجھے معلوم نہ تھا

کمال جعفری

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے