Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ظلم پر اشعار

کہیں سورج نظر آتا نہیں ہے

حکومت شہر میں اب دھند کی ہے

عاصم تنہا

قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ

اور بھی الجھیں گے حلقے دام کے

حفیظ جونپوری

ہم پرندوں سے ہنر چھینے گا کون

جل گیا اک گھر تو سو گھر بن گئے

زینت اللہ جاوید

مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی

جی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور

اختر شیرانی

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں

یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

مختار تلہری

کیا عشق مجازی نے حقیقت آشنا مجھ کو

بتوں نے ظلم وہ ڈھایا کہ یاد آیا خدا مجھ کو

خضر ناگپوری

انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل

وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے

محسن نقوی

سنی نہ ایک بھی ظالم نے آرزو دل کی

یہ کس کے سامنے ہم عرض حال کر بیٹھے

حیرت الہ آبادی

گزرا تھا اپنے شہر سے راون فساد کا

ظالم محبتوں کی کتھائیں بھی لے گیا

فاروق انجم

ظلم سہہ کے بھی میں نے ہونٹ سی لیے غازیؔ

ایک ظرف ان کا ہے ایک ظرف میرا ہے

شاہد غازی

ظلم سے گر ذبح بھی کر دو مجھے پروا نہیں

لطف سے ڈرتا ہوں یہ میری قضا ہو جائے گا

بیخود دہلوی

میں ملک بدر صبر بھی کر سکتی تھی لیکن

یہ دیکھنا تھا ظلم کی سرحد ہے کہاں تک

مینا نقوی

خود فریبی میں مبتلا رکھ کر

ظلم کی تم نے انتہا کی ہے

عظیم حیدرآبادی

معصوم تھا میں پھر بھی سزا کر دیا اس نے

اچھے بھلے قیدی کو رہا کر دیا اس نے

اسامہ ضوریز

ڈر اور ظلم کا یارو کوئی انت نہیں

خود کو ڈھونڈ رہے ہیں لوگ اب راون میں

راج کھیتی

راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بنتے ہم

بس اس لئے کہانی میں مارا گیا ہمیں

کاشف سید

دیکھی ہے رعونت بھی اور نام بھی دیکھا ہے

تاریخ نے ظالم کا انجام بھی دیکھا ہے

ڈاکٹر اعجاز رسول

اسی کو سونپ دی ہم نے حفاظت اپنے خیموں کی

وہ آدم خور جو لاشوں کا بیوپاری رہا برسوں

ریاض ساغر

اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا

دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں

شرر فتح پوری

شاخ سے توڑ کے گلدان میں رکھا ہم کو

اور پھر اس پہ ہدایت کہ مہکتے رہنا

سید احمد
بولیے