دہلی کے متقدمین شعرا اور ولی دکنی کی عظمت کا گومگو اعتراف
دہلی کے ابتدائی شعرا نے ولی دکنی کے اثر کو محسوس تو کیا، لیکن علاقائی تعصب کے باعث ان کی برتری کو کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
دہلی کے ابتدائی شعرا نے ولی دکنی کے اثر کو محسوس تو کیا، لیکن علاقائی تعصب کے باعث ان کی برتری کو کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
یہ مضمون اردو زبان کے ابتدائی دور کی نفسیاتی کشمکش، فارسی کے غلبے اور ولی دکنی کی شاعری کے اس انقلابی اثر کا جائزہ لیتا ہے جس نے اردو کو ایک باقاعدہ ادبی زبان کا درجہ دلایا۔
ولی دکنی کو شاہ گلشن کی جانب سے ریختہ گوئی میں فارسی مضامین باندھنے کے مشورے کی کہانی دراصل دہلی کے تذکرہ نگاروں کی اختراع ہے۔