اردو ادب کی تاریخ میں شاید ہی کوئی واقعہ اتنا مشہور اور اس قدر دہرایا گیا ہو جتنا کہ ولی دکنی اور شاہ سعداللہ گلشن کی دہلی میں ملاقات کا قصہ ہے۔ میر تقی میر اور قائم چاند پوری جیسے تذکرہ نگاروں نے یہ بیانیہ قائم کیا کہ جب ولی ۱۷۰۰ء کے لگ بھگ دہلی آئے، تو شاہ گلشن نے انہیں مشورہ دیا کہ فارسی کے بیکار پڑے مضامین کو ریختہ (اردو) میں استعمال کرو۔ اس بیانیے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ولی کی شاعری کا سارا حسن اور کمال دراصل دہلی کے ایک بزرگ کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
شمس الرحمن فاروقی اس واقعے کو سختی سے رد کرتے ہوئے اسے ایک 'ادبی افسانہ' قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ ڈھائی سو برس کی اردو ادبی تاریخ نگاری اس ایک بات پر متفق رہی ہے کہ ولی کے کارنامے کی وقعت کو کم کر کے دکھایا جائے۔ چونکہ ولی شمال کے لیے 'غیر ملکی' اور دکنی تھے، اس لیے دہلی کے مرزایانِ سخن کے لیے یہ بات زہر سے زیادہ کڑوی تھی کہ ایک دکنی نے انہیں اردو شعر گوئی سکھائی۔ اس ہزیمت کو مٹانے کے لیے شاہ گلشن والا واقعہ ایجاد کیا گیا۔
اس کہانی کے جھول خود تذکرہ نگاروں کے بیانات سے ظاہر ہوتے ہیں۔ میر کے مطابق شاہ گلشن نے ولی کو مشورہ دیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہ گلشن، جو خود اوسط درجے کے فارسی شاعر تھے اور ریختہ بہت کم کہتے تھے، عرصۂ دراز تک اس بات کے منتظر کیوں رہے کہ کوئی باہر سے آئے تو اسے یہ قیمتی مشورہ دیں؟ اس وقت دہلی میں مرزا عبدالقادر بیدل جیسے عظیم المرتبت شاعر موجود تھے۔ اگر کسی کو یہ مشورہ دینے کا استحقاق تھا تو وہ بیدل تھے، نہ کہ شاہ گلشن۔
قائم چاند پوری نے اس افسانے کو مزید ڈرامائی بنانے کے لیے یہ دعویٰ کر دیا کہ ولی اس ملاقات سے پہلے باقاعدہ شاعر ہی نہ تھے، اور شاہ گلشن نے انہیں یہ مطلع کہہ کر دیا:
خوبی اعجاز حسن یار اگر افشا کروں
بے تکلف صفحۂ کاغذ ید بیضا کروں
یہ بات سراسر بعید از قیاس ہے کہ ۳۳ یا ۳۵ سال کی پختہ عمر کا ایک شخص، جو دکن سے دہلی آیا ہو، اچانک ایک بزرگ کے کہنے پر شعر کہنا شروع کر دے اور راتوں رات استاد تسلیم کر لیا جائے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ولی دہلی آنے سے پہلے ہی ایک قادر الکلام شاعر تھے اور انہیں اپنے فن پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ ناصر علی سرہندی جیسے فارسی کے استاد کو للکار سکتے تھے:
پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق
اگر مصرع لکھوں ناصر علی کوں
یہ اعتماد کسی نوسکھئیے کا نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت، ولی اور شاہ گلشن کے مراسم دہلی سے پہلے گجرات یا برہان پور میں استوار ہو چکے تھے۔ ولی نے اپنی شاعری کی بنیاد دکنی اور گجری روایات پر رکھی تھی، اور ان کا کمال ان کی اپنی طبعِ زاد صلاحیتوں کا نتیجہ تھا، نہ کہ دہلی میں ملنے والے کسی اچانک مشورے کا۔
