جب ولی دکنی کا دیوان ۱۷۲۰ء کی دہائی میں دہلی پہنچا (جسے محمد شاہ بادشاہ کا دورِ حکومت کہا جاتا ہے)، تو اس نے دہلی کے ادبی حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ شاہ حاتم کے بقول، ولی کے اشعار چھوٹے بڑے کی زبان پر جاری ہو گئے اور ہر خاص و عام نے اسی طرز میں شعر گوئی شروع کر دی۔ لیکن دہلی کے شعرا کے لیے ایک 'دکنی' کو اپنا استاد ماننا ایک نفسیاتی مسئلہ تھا۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، دہلی کے شعرا ولی کے حلقہ بگوش تو ہوئے، لیکن ان کا اظہار ایسی زبان میں کیا جس میں ایک عجب گومگو اور ہچکچاہٹ کی کیفیت تھی۔
مثال کے طور پر، شاہ مبارک آبرو نے ولی کی تعریف میں کہا:
آبرو شعر ہے ترا اعجاز
جوں ولی کا سخن کرامت ہے
بظاہر یہ ایک زبردست خراجِ تحسین ہے، لیکن آبرو نے ایک اور جگہ لکھا:
ولی ریختے بیچ استاد ہے
کہے آبرو کیونکہ اس کا جواب
ولیکن تتبع سیں کہنا سخن
کرے فیض سوں فکر میں کامیاب
بعض ناقدین اسے ولی کی برتری کا بے تکلف اعتراف سمجھتے ہیں، لیکن فاروقی صاحب کے نزدیک یہاں 'تتبع' کا مطلب محض 'تقلید' نہیں بلکہ 'محنت اور پوری چھان بین کے ساتھ تلاش' ہے۔ آبرو دراصل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی فکر اور محنت سے ولی کا جواب لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شاکر ناجی کا انداز تو اس سے بھی زیادہ جارحانہ اور للکارنے والا تھا:
جو قبرستاں میں کوئی شعر ناجی کا پڑھے جاکر
کفن کو چاک کر کر آفریں کہتا ولی نکلے
یہاں ناجی کھلے عام ولی پر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان متقدمین میں صرف شاہ حاتم وہ واحد شاعر تھے جن کی سرشت میں فیاضی تھی اور جنہوں نے اپنے دیوان کے دیباچے میں کھلے دل سے تسلیم کیا کہ وہ 'ریختہ میں ولی کو استاد مانتے ہیں'۔ حاتم نے دبی زبان میں برابری کا دعویٰ ضرور کیا:
حاتم بھی اپنے دل کی تسلی کوں کم نہیں
گرچہ ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ
لیکن مجموعی طور پر، دہلی کے شعرا نے ولی کے احسان کو ماننے کے باوجود ان کی وقعت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ ولی نے خود دہلوی شعرا کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپنے کلام میں دکن کے شعرا (جیسے حسن شوقی، فراقی بیجاپوری، اور فقیر اللہ آزاد) کا ذکر تو کیا، لیکن دہلی کے ریختہ گویوں کو یکسر نظر انداز کر دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ولی خود کو کسی دہلوی روایت کا محتاج نہیں سمجھتے تھے۔
