مرزا اسد اللہ خاں غالب کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاقِ حسنہ اور انسانی ہمدردی کے پہلو نہایت نمایاں نظر آتے ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی کے بیان کے مطابق، مرزا کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ وہ ہر ملنے والے سے اس قدر کشادہ پیشانی اور خلوص سے پیش آتے تھے کہ جو شخص ایک بار ان سے مل لیتا، وہ تاحیات ان کی ملاقات کا مشتاق رہتا۔ ان کے دوستوں کا حلقہ کسی ایک مذہب، ملت یا شہر تک محدود نہ تھا، بلکہ پورے ہندوستان میں ان کے چاہنے والے موجود تھے۔ دوستوں کی خوشی میں خوش ہونا اور ان کے غم میں رنجیدہ ہونا غالب کی فطرتِ ثانیہ تھی۔
غالب کے خطوط اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کے ایک ایک حرف سے مہر و محبت اور یگانگت ٹپکتی ہے۔ وہ ہر خط کا جواب دینا اپنے ذمے 'فرضِ عین' سمجھتے تھے۔ بیماری اور شدید تکلیف کے عالم میں بھی وہ اپنے احباب کو خطوط کے جوابات لکھنا ترک نہیں کرتے تھے۔ دوستوں کی فرمائشوں، خواہ وہ غزلوں کی اصلاح ہو یا دیگر کام، کو وہ خندہ پیشانی سے پورا کرتے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص بیرنگ خط بھیجتا تو انہیں ناگوار نہ گزرتا، البتہ لفافے میں ٹکٹ رکھ کر بھیجنے پر وہ سخت ناراض ہوتے اور اسے اپنی توہین اور مروت کے خلاف تصور کرتے۔
مالی اعتبار سے مرزا غالب کی حالت کوئی بہت زیادہ مستحکم نہ تھی۔ غدر کے بعد ان کی آمدنی محض ڈیڑھ سو روپے ماہوار رہ گئی تھی، لیکن ان کا حوصلہ اور سخاوت بادشاہوں جیسی تھی۔ ان کے دروازے سے کوئی سائل شاذ و نادر ہی خالی ہاتھ لوٹتا۔ ان کے مکان کے باہر ہمیشہ معذور اور ضرورت مند افراد کا تانتا بندھا رہتا تھا اور غالب اپنی بساط سے بڑھ کر ان کی مدد کرتے۔ ایک مرتبہ دربار سے ملنے والا خلعت انہوں نے محض اس لیے بازار میں فروخت کر دیا تاکہ چپراسیوں کو ان کا روایتی انعام دے سکیں۔
دوستوں کے ساتھ ان کا سلوک نہایت شریفانہ اور ایثار پر مبنی تھا۔ ایک مرتبہ ان کا ایک دلی دوست، جو گردشِ روزگار کے سبب غریب ہو چکا تھا، معمولی چھینٹ کا فرغل پہنے ان سے ملنے آیا۔ غالب، جنہوں نے اسے ہمیشہ قیمتی لباس میں دیکھا تھا، یہ دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کمالِ ہوشیاری اور مروت سے اس چھینٹ کے کپڑے کی تعریف کی اور اپنا قیمتی مالیدے کا نیا چغہ اس دوست کی نذر کر دیا۔ غالب کی یہ قلندری اور ایثار ان کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ دنیا میں کسی کو بھوکا ننگا اور محتاج نہیں دیکھ سکتے تھے۔
