مرزا غالب کی ذہنی استعداد، جودتِ طبع اور قوتِ حافظہ اپنے ہم عصروں میں بے نظیر تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے بڑے عالم اور شاعر کے گھر میں کتابوں کا کوئی باقاعدہ ذخیرہ یا نشان تک نہ تھا۔ ان کا معمول تھا کہ وہ کرائے پر کتابیں منگواتے، ان کا مطالعہ کرتے اور واپس کر دیتے۔ لیکن ان کی عقابی نظر جس کام کی بات یا لطیف نکتے پر پڑ جاتی، وہ ہمیشہ کے لیے ان کے ذہن کے نہاں خانے میں نقش ہو جاتا۔ فارسی زبان و ادب پر ان کی گرفت کا یہ عالم تھا کہ وہ کوئی بھی لفظ، محاورہ یا ترکیب اس وقت تک استعمال نہیں کرتے تھے جب تک کہ اس کی سند اساتذہ اہلِ زبان کے کلام سے نہ دے سکیں۔
غالب کے فکرِ شعر کا طریقہ بھی نہایت انوکھا تھا۔ وہ اکثر رات کے وقت، عالمِ سرخوشی میں شاعری پر غور کرتے۔ جب کوئی شعر مکمل ہو جاتا تو اسے لکھنے کے بجائے اپنے کمربند میں ایک گرہ لگا لیتے۔ اس طرح رات بھر میں آٹھ دس گرہیں لگ جاتیں اور اگلے دن وہ محض اپنی یادداشت کے سہارے ان تمام اشعار کو قلم بند کر لیتے۔ یہ ان کے قوی حافظے کی ایک زندہ دلیل ہے۔
شعر فہمی اور کتاب فہمی میں غالب ایک مستثنیٰ مقام رکھتے تھے۔ کیسا ہی مشکل اور پیچیدہ مضمون کیوں نہ ہو، وہ ایک سرسری نظر میں اس کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔ ان کی سخن سنجی کا ایک مشہور واقعہ مولانا آزردہ کے یہاں پیش آیا۔ مولانا نے ایک غزل لکھی جس کا مطلع بہت شاندار تھا۔ اسی زمین میں فارسی کے مشہور شاعر نظیری کا بھی ایک مطلع تھا:
عشق عصیاں است گر مستور نیست
کشتہ جرم زباں مغفور نیست
مولانا آزردہ اور ان کے احباب نے نظیری کے اس مطلع کا اردو ترجمہ کیا اور غالب کے سامنے پیش کیا تاکہ وہ فیصلہ کریں کہ کون سا مطلع بہتر ہے۔ غالب نے جیسے ہی نظیری کے مطلع کا ترجمہ سنا، وہ بے ساختہ سر دھننے لگے اور اس قدر داد دی کہ مولانا آزردہ کو اپنا مطلع سنانے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔
صرف شاعری ہی نہیں، بلکہ حقائق و معارف کی دقیق کتابوں کو سمجھنے میں بھی غالب کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ایک مرتبہ نواب مصطفیٰ خاں، شاہ ولی اللہ کا ایک فارسی رسالہ جو حقائق و معارف کے نہایت دقیق مسائل پرمشتمل تھا، پڑھ رہے تھے ایک مقام پر کچھ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ غالب نے وہاں پہنچ کر محض تھوڑے سے غور کے بعد اس مقام کی ایسی شاندار تشریح کی کہ خود نواب صاحب دنگ رہ گئے۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ غالب محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم نقاد اور مفکر بھی تھے۔
