زر زمیں تو نہ تھی مقدر میں
اس نے ورثے میں دشمنی پائی
بدل نہ لیں کہیں رستہ یہ آگ کی لپٹیں
ہمیں ہی راکھ نہ کر دیں یہ نفرتیں اپنی
اتنا نظروں سے گرا ہے کوئی
اس کو دیکھوں تو ہنسی آتی ہے
رینگتے ہیں کرمک بغض و عناد
شہر کا ہر جسم ہے دیمک زدہ
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
زر زمیں تو نہ تھی مقدر میں
اس نے ورثے میں دشمنی پائی
بدل نہ لیں کہیں رستہ یہ آگ کی لپٹیں
ہمیں ہی راکھ نہ کر دیں یہ نفرتیں اپنی
اتنا نظروں سے گرا ہے کوئی
اس کو دیکھوں تو ہنسی آتی ہے
رینگتے ہیں کرمک بغض و عناد
شہر کا ہر جسم ہے دیمک زدہ