پاس تھا زر تو کوئی عیب نہ تھا
سب عیوب آئے بے زری کے ساتھ
-
موضوع : عیب
دولت سے کہاں جڑتے ہیں ٹوٹے ہوئے رشتے
شیشے کو کبھی گوند سے جوڑا نہیں جاتا
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے
زر زمیں تو نہ تھی مقدر میں
اس نے ورثے میں دشمنی پائی
نہ کوئی پیر مغاں ہے نہ کوئی رند خراب
سبھی مفاد کے بندے سبھی ہیں زر کے غلام
تیری ہستی کا راز ہے پیسہ
سامنا نیستاں سے کرتا ہے
-
موضوعات : دنیااور 1 مزید
فکر مالی کی بڑھنے والی ہے
پیڑ پھل دار ہونے والے ہیں