Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دولت پر اشعار

پاس تھا زر تو کوئی عیب نہ تھا

سب عیوب آئے بے زری کے ساتھ

موہن سنگھ دیوانہ

دولت سے کہاں جڑتے ہیں ٹوٹے ہوئے رشتے

شیشے کو کبھی گوند سے جوڑا نہیں جاتا

محور نوری

دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست

کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے

ضیاء مذکور

زر زمیں تو نہ تھی مقدر میں

اس نے ورثے میں دشمنی پائی

عاصم بخاری

جب کھلے نقد کے اوصاف بہ فیض نقدی

کچھ رسالوں کے اڈیٹر بھی طرف دار ہوئے

حسن نعیم

نہ کوئی پیر مغاں ہے نہ کوئی رند خراب

سبھی مفاد کے بندے سبھی ہیں زر کے غلام

شمیم اکرم رحمانی

تیری ہستی کا راز ہے پیسہ

سامنا نیستاں سے کرتا ہے

واصف علی واصف

فکر مالی کی بڑھنے والی ہے

پیڑ پھل دار ہونے والے ہیں

دپیش شرما سوبھری
بولیے