کبھی نہ ختم ہونے والی رات پر اشعار
رات کی خاموشی، تنہائی،
اداسی، انتظار، خواب، محبت اور یادوں سے جڑے مختلف احساسات اور کیفیات کی عکاسی کرتے اشعار کا انتخاب۔ کہیں رات سکون اور خوابوں کی علامت ہے تو کہیں بے خوابی، ہجر اور دل کی بے قراری کا استعارہ۔ اس ٹیگ میں رات کے ان گنت رنگوں اور انسانی جذبات کی مختلف صورتوں کو شاعری کے آئینے میں پیش کیا گیا ہے۔
اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
-
موضوعات : انتظاراور 3 مزید
جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے
کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے
-
موضوعات : طویل انتظارِاور 2 مزید
زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
رات کٹتی نظر نہیں آتی
-
موضوع : طویل انتظارِ
دن کٹا جس طرح کٹا لیکن
رات کٹتی نظر نہیں آتی
-
موضوعات : راتاور 1 مزید
رات کاٹے نہیں کٹتی ہے کسی صورت سے
دن تو دنیا کے بکھیڑوں میں گزر جاتا ہے
-
موضوع : طویل انتظارِ
نہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا
شب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی
-
موضوع : طویل انتظارِ
یہ وہی رات ہے جس میں کوئی رونے والا
رونے لگتا ہے تو روتا ہی چلا جاتا ہے
شام غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی
-
موضوع : طویل انتظارِ
اے ذکیؔ ہجر کی راتیں نہیں کاٹے کٹتیں
کوئی اچھی سی غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے
-
موضوع : طویل انتظارِ
سرد رات اپنی نہیں کٹتی کبھی تیرے بغیر
ایسے موسم میں تو اور آگ لگاتی ہے ہوا
-
موضوع : طویل انتظارِ
یہ لمبی رات یہ بے خوابی یہ کروٹ کروٹ بیتابی
موسم کے بسنتی چھینٹوں نے کیا آگ جگر میں لگائی ہے
-
موضوع : طویل انتظارِ
ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی
اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی
-
موضوع : طویل انتظارِ
شام نہیں ڈھلتی کسی صورت رات نہیں کٹتی کسی طور
اب تو بہت دل گھبرائے ہے اب تو بہت یاد آؤ ہو
-
موضوع : طویل انتظارِ