شعر فہمی کے حوالے سے ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ ایک مثالی قاری کسی شعر کے تمام مطالب کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اس تصور کو فلسفیانہ اور تنقیدی بنیادوں پر رد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، شعرفہمی کی دو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں: اول یہ کہ ہم شعر کے اندر پنہاں تمام مطالب سمجھ لیں، اور دوم یہ کہ ہم ان تمام کیفیات سے آگاہ ہو جائیں جو تخلیق کے وقت شاعر کے ذہن میں تھیں۔ فاروقی صاحب کے نزدیک یہ دونوں صورتیں عملاً ناممکن ہیں۔
کسی بھی شعر کے معنی (Meaning) اور معنویت (Signification) قاری کی صورتِ حال، زمانے اور سیاق و سباق کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ ایک نہایت سادہ شعر بھی مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنویت رکھ سکتا ہے۔ اکبر الہ آبادی کا یہ شعر دیکھیے:
آج میں نے ان کے گھر بھیجا کئی بار آدمی
جب سنا تو یہ سنا بیٹھے ہیں دو چار آدمی
بظاہر اس شعر کے لفظی معنی میں کوئی پیچیدگی نہیں، لیکن اس کی معنویت کی کئی تہیں ہیں۔ یہ روایتی معشوق کے بارے میں ہو سکتا ہے، کسی افسر کے بارے میں جسے صاحبِ غرض گھیرے ہوں، کسی لیڈر کے بارے میں، یا کسی ہم پیشہ کی رقابت کے اظہار کے طور پر۔ کوئی ایک شخص ایک ہی وقت میں ان تمام معنویتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
اسی طرح خواجہ حیدر علی آتش کا شعر ہے:
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
یہ شعر مہم جوئی کی ترغیب بھی دے سکتا ہے، انسان کی مہمان نوازی کی تعریف بھی کر سکتا ہے، اور پیغامِ عمل بھی دے سکتا ہے۔ فاروقی صاحب برٹرینڈ رسل کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ کسی شے کا مکمل علم دراصل تمام لوگوں کے علم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چونکہ ہر قاری کے حواسی اطلاعات (Sense Data) مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کوئی بھی تفہیم کسی شعر کی مکمل ترین تفہیم نہیں ہو سکتی۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی توفیق بھر اشعار کو سمجھیں اور ان سے لطف اندوز ہوں، لیکن 'مکمل شعر فہمی' کا دعویٰ محض ایک سراب ہے۔
