مرزا غالب کی نجی زندگی اور ان کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے دسترخوان اور مرغوب غذاؤں کا ذکر نہایت دلچسپی کا حامل ہے۔ غالب کی خوراک میں گوشت کو بنیادی اور لازمی حیثیت حاصل تھی۔ وہ ایک وقت بھی گوشت کے بغیر کھانا پسند نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بیماری یا مسہل کے دنوں میں بھی انہوں نے کبھی کھچڑی یا سادہ شوربہ نہیں کھایا۔ عمر کے آخری حصے میں ان کی خوراک بہت کم ہو گئی تھی۔ ان کے دسترخوان پر برتن تو بہت ہوتے تھے لیکن ان میں کھانے کی مقدار نہایت قلیل ہوتی تھی۔ اسی مناسبت سے انہوں نے ایک بار مسکرا کر کہا تھا کہ 'اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دسترخوان یزید کا دسترخوان معلوم ہوتا ہے اور جو کھانے کی مقدار کو دیکھیے تو بایزید کا۔'
لیکن غالب کی زندگی کا سب سے دلچسپ پہلو پھلوں کے بادشاہ 'آم' کے ساتھ ان کا والہانہ عشق ہے۔ آموں کی فصل آتے ہی غالب کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ ان کے دوست دور دراز سے ان کے لیے عمدہ آم بھیجتے، اور وہ خود بھی خطوط لکھ لکھ کر دوستوں سے آموں کا تقاضا کرتے۔ کلکتہ کے قیام کے دوران انہوں نے ہگلی کے متولی کو ایک خط میں لکھا کہ اہل کلکتہ کے نزدیک بہترین آم ہگلی کا ہے، اس لیے وہ امید کرتے ہیں کہ موسم کے اختتام تک دو تین بار ان کی تواضع کی جائے گی۔
آموں کے حوالے سے غالب کی حاضر جوابی کے کئی قصے مشہور ہیں۔ ایک روز وہ بہادر شاہ ظفر کے ہمراہ باغِ حیات بخش میں ٹہل رہے تھے۔ درختوں پر لدے رنگ برنگے آم دیکھ کر غالب بار بار ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے۔ بادشاہ کے پوچھنے پر انہوں نے عرض کیا:
برسر ہر دانہ بنوشتہ عیاں
کایں فلاں ابن فلاں ابن فلاں
'پیر و مرشد! میں دیکھ رہا ہوں کہ کسی دانے پر میرا اور میرے باپ دادا کا نام بھی لکھا ہے یا نہیں۔' بادشاہ اس لطیف پیرائے پر مسکرائے اور اسی روز عمدہ آموں کی ایک بہنگی غالب کے گھر بھجوا دی۔
غالب کی آموں سے نیت کبھی سیر نہیں ہوتی تھی۔ ایک محفل میں جب آموں کی خوبیوں پر بحث ہو رہی تھی، تو مولانا فضل الحق نے غالب سے ان کی رائے پوچھی۔ غالب نے نہایت سادگی اور سچائی سے جواب دیا، 'بھئی میرے نزدیک تو آم میں صرف دو باتیں ہونی چاہئیں، میٹھا ہو اور بہت ہو۔' اسی طرح جب ان کے ایک دوست حکیم رضی الدین نے، جنہیں آم پسند نہیں تھے، ایک گدھے کو آم کے چھلکے چھوڑتے دیکھ کر طنز کیا کہ 'آم ایسی چیز ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا'، تو غالب نے فوراً جواب دیا، 'بے شک گدھا نہیں کھاتا۔' غالب کا یہ عشقِ آم آج بھی اردو ادب کی روایات کا ایک شیریں حصہ ہے۔
