اردو ادب کی تاریخ میں مرزا غالب وہ واحد شخصیت ہیں جن کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی ظرافت، شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی کے قصے آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی کے مطابق، غالب زیادہ بولنے والے انسان نہیں تھے، لیکن ان کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا، وہ لطف اور مزاح سے خالی نہ ہوتا۔ ان کی طبیعت میں ظرافت اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری تھی کہ اگر انہیں انسان (حیوانِ ناطق) کے بجائے 'حیوانِ ظریف' کہا جائے تو قطعی بے جا نہ ہوگا۔
غالب کی حاضر جوابی کے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ گزرنے کے بعد وہ قلعہ معلیٰ میں بہادر شاہ ظفر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ بادشاہ نے مسکرا کر پوچھا، 'مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟' غالب نے کمالِ برجستگی سے ہاتھ باندھ کر عرض کیا، 'پیر و مرشد! ایک نہیں رکھا۔' اس ایک جملے میں جو ذومعنویت اور شوخی چھپی تھی، وہ صرف غالب ہی کا خاصہ تھی۔
ان کی ظرافت موقع محل کی مناسبت سے اپنا رنگ بدلتی تھی۔ ایک دن وہ نواب مصطفیٰ خاں سے ملنے گئے۔ مکان کے باہر کا چھتہ نہایت تاریک تھا، وہاں نواب صاحب کو کھڑے دیکھ کر غالب نے فوراً یہ فارسی مصرع پڑھا: 'کہ آب چشمہ حیواں درون تاریکیست' (یعنی آبِ حیات اندھیرے میں ہی ملتا ہے)۔ لیکن جب وہ دیوان خانے میں پہنچے جہاں دھوپ پھیلی ہوئی تھی، تو بے ساختہ بول اٹھے: 'ایں خانہ تمام آفتا ب است' (یہ گھر تو مکمل سورج ہے)۔
غالب اپنے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بھی نہایت بے تکلف تھے۔ ایک دن شدید گرمی اور رمضان کے مہینے میں وہ اپنی ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں دوست کے ساتھ چوسر کھیل رہے تھے۔ مولانا آزردہ آئے اور طنزاً کہا کہ 'ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان میں شیطان قید رہتا ہے، مگر آج اس پر تردد ہو رہا ہے۔' غالب نے فوراً جواب دیا، 'قبلہ! حدیث بالکل صحیح ہے، مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان کے قید رہنے کی جگہ یہی کوٹھری تو ہے۔'
اسی طرح ایک محفل میں جب شیخ ابراہیم ذوق نے میر تقی میر پر مرزا سودا کو ترجیح دی، تو غالب نے ذوق پر چوٹ کرتے ہوئے کہا، 'میں تو تم کو میری سمجھتا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ آپ سودائی ہیں۔' غالب کی یہ برجستہ اور شگفتہ باتیں ان کی محفلوں کی جان ہوا کرتی تھیں، اور اگر ان کے تمام لطائف جمع کیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
