وقت جو ایک پل ٹھہر جائے
وقت جو ایک پل ٹھہر جائے
سوچیے آدمی کدھر جائے
کیا پتہ محفلوں سے بھاگا شخص
اپنی تنہائیوں سے ڈر جائے
دل بھی مرمر سا کیوں نہیں ہوتا
غم کی بارش پڑے نکھر جائے
آنکھ صحرا ہے کیا جو بنجر ہو
آنکھ دریا ہے جو اتر جائے
سوچ اس سوچ کا تدارک کیا
جو تری گفتگو میں مر جائے
خواب کا سلسلہ ضروری ہے
آنکھ میں اک جہاں ٹھہر جائے
ان ہواؤں سے عہد کرتا دل
سانس لینے سے گر مکر جائے
اس کا ہونا فضول ہے زوبیؔ
دل سے اک بار جو اتر جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.