اردو افسانے کی تاریخ میں ترقی پسند عہد کے جن ستونوں کا ذکر ناگزیر ہے، ان میں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے ساتھ عصمت چغتائی کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند ہے۔ عصمت چغتائی نے آزادی سے کچھ عرصہ قبل اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا اور بہت جلد اپنی باغیانہ فکر اور بے باکانہ طرزِ اظہار کے سبب اردو ادب میں اپنا ایک منفرد اور ناقابلِ تسخیر مقام بنا لیا۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی طاقت ان کی زنانہ بامحاورہ زبان اور شوخ و بے لاگ مکالمے تھے، جنہوں نے اردو افسانے کو ایک نئی جہت اور تازگی بخشی۔
عصمت چغتائی کے افسانوں کا بنیادی مرکز اور محور شمالی ہندوستان کے نچلے متوسط مسلم گھرانے رہے ہیں۔ یہ وہ گھرانے تھے جہاں جدید تعلیم کا فقدان تھا اور فرسودہ روایات کا غلبہ تھا۔ ان بند اور گھٹے ہوئے ماحول میں پرورش پانے والے افراد، بالخصوص عورتیں، شدید جنسی دباؤ اور اعصابی تناؤ کا شکار ہو جاتی تھیں۔ عصمت نے اسی قدامت پسند ماحول اور اس کے بوسیدہ اخلاقی نظام کو بے دردی سے بے نقاب کیا۔ انہوں نے ان موضوعات پر قلم اٹھایا جن پر بات کرنا اس دور کے معاشرے میں شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔
ان کے افسانوں کی ایک اہم خصوصیت عورت کے جنسی دباؤ اور نفسیاتی گھٹن کی بے لاگ ترجمانی ہے۔ وہ محض ایک کہانی کار نہیں تھیں بلکہ انسانی نفسیات، بالخصوص نسوانی نفسیات کی ایک گہری مبصر تھیں۔ انہوں نے ان پردہ نشین عورتوں کی دبی ہوئی خواہشات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنسی کج روی کو انتہائی حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا قلم کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوا بلکہ اس نے معاشرے کے ان تاریک گوشوں کو منور کیا جنہیں لوگ نظر انداز کرنا چاہتے تھے۔
عصمت چغتائی اپنے فن کے بارے میں خود ایک واضح نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جنس کا موضوع ان گھٹے ہوئے ماحول اور پردے میں رہنے والی بیویوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنی افسانہ نگاری کو محض تخیل کی اڑان نہیں بلکہ اس گھٹے ہوئے ماحول کی 'فوٹوگرافی' قرار دیتی تھیں۔ ان کی یہ فوٹوگرافی اتنی شفاف اور کھرُدری تھی کہ اس نے اردو ادب کے قاری کو چونکا دیا اور انہیں ایک ایسی حقیقت پسند قلم کار کے طور پر منوایا جس نے روایت کی ہر سیدھی لکیر کے آگے ایک 'ٹیڑھی لکیر' کھینچنے کی جرات کی۔
