اردو ادب کی تاریخ میں ترقی پسند تحریک کی آمد ایک ایسے تازہ جھونکے کی مانند تھی جس نے بند کمروں کے حبس کو ختم کر دیا۔ آل احمد سرور اس تحریک کے اساسی فلسفے کو سمجھانے کے لیے میر تقی میرؔ کا ایک نہایت دلچسپ اور معنی خیز واقعہ نقل کرتے ہیں۔ میرؔ صاحب کو ایک کرم فرما نے ایک ایسا مکان دیا جس کے ساتھ ایک خوبصورت باغ تھا۔ مگر جب وہ کچھ عرصے بعد ان سے ملنے گئے تو دیکھا کہ باغ کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں بند ہیں اور میرؔ صاحب اپنی فکرِ سخن میں غرق ہیں۔ جب ان سے کھڑکیاں بند رکھنے کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے مسودوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تخیل کے باغ کی تیاری میں اتنے محو ہیں کہ انہیں باہر کے باغ کی کوئی خبر نہیں۔
یہ واقعہ دراصل اس کلاسیکی اور روایتی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتا ہے جہاں فنکار اپنی ذات اور تخیل کی دنیا میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اسے خارجی دنیا، معاشرے اور فطرت کی حقیقی رنگینیوں سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔ ترقی پسند تحریک دراصل اسی نقطۂ نظر کے خلاف ایک شدید احتجاج کے طور پر ابھری۔ اس تحریک نے یہ واضح کیا کہ اگرچہ ادب کی تخلیق کے لیے 'خونِ جگر' اور فنکارانہ ریاضت ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ فطرت کی رنگینی اور انسانی جدوجہد کی عکاسی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اس کے برعکس، سرور صاحب مشہور روسی ادیب ترجنیف کی مثال دیتے ہیں، جس کے بارے میں کوسلر نے لکھا ہے کہ وہ لکھتے وقت اپنے پیروں کے پاس گرم پانی کی بوتل رکھتا تھا مگر اپنا دریچہ ہمیشہ کھلا رکھتا تھا۔ اردو ادب میں ایک طویل عرصے تک یہ دریچے بند رہے۔ ترقی پسند تحریک نے ان دریچوں کو کھولا تاکہ تازہ ہوائیں اور نئے تصورات اندر آ سکیں، اور ساتھ ہی اندر کے اندھیروں اور فتنوں کو دن کی روشنی میں لایا جا سکے۔
تاہم، سرور صاحب یہ بھی تنبیہ کرتے ہیں کہ محض دریچے کی سیر کو ادب سمجھ لینا بھی ایک فریب ہے۔ ترقی پسند تحریک کا مقصد صرف باہر کے مناظر دیکھنا نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل ہدف زندگی کی حرارت، سماجی کشمکش اور انسانی دکھ درد کو محسوس کر کے اسے ایک بامقصد اور تعمیری ادب میں ڈھالنا تھا۔ یہ تحریک ادب برائے ادب کے حصار کو توڑ کر ادب برائے زندگی کی طرف ایک جرات مندانہ قدم تھی۔
