انسانی نفسیات کے حوالے سے سگمنڈ فرائڈ کا ایک مشہور نظریہ 'خود اذیتی' (Masochism) کا ہے۔ فرائڈ کا ماننا تھا کہ انسان میں جنسیت کے ساتھ ساتھ موت کی خواہش بھی پائی جاتی ہے، اور جب یہ خواہش غالب آتی ہے تو انسان لذت کے بجائے اذیت کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ لیکن ولہم رائخ نے اس نظریے کو یکسر مسترد کر دیا۔ رائخ کے نزدیک انسان کبھی اذیت کی تلاش نہیں کرتا، وہ ہمیشہ لذت اور نشاط ہی ڈھونڈتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خارجی ماحول اور اندرونی گھٹن کے باعث انسان میں اس نشاط کو سہارنے یا برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ جب وہ لذت کی شدت کو برداشت نہیں کر پاتا، تو وہ اذیت یا موت کی طرف بھاگتا ہے۔
محمد حسن عسکری بتاتے ہیں کہ رائخ کے اس پیچیدہ نفسیاتی اور سائنسی اصول کو فراق گورکھپوری نے اپنی شاعرانہ بصیرت کے ذریعے بہت پہلے دریافت کر لیا تھا۔ رائخ کا کہنا ہے کہ ہر انسان کائناتی قوت (اورگون) یا نشاط کو صرف ایک مخصوص حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ اس کی زیادتی کو سہارنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جب یہ قوت حد سے بڑھتی ہے تو کمزور اعصابی نظام والے لوگ پاگل ہو جاتے ہیں یا انہیں بھوت پریت نظر آنے لگتے ہیں۔ فراق نے اس سائنسی حقیقت کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے:
کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے
بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی
اس شعر میں 'بارِ نشاط' (خوشی کا بوجھ) اور 'بلائیں' محض روایتی استعارے نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات اور اورگون لہروں کی شدت کا بالکل سائنسی اور درست بیان ہیں۔ عام لوگ اپنی شخصیت کو 'بکتر بند' رکھتے ہیں، وہ نہ باہر کی لہروں کو اندر آنے دیتے ہیں اور نہ اندر کے جذبات کو باہر جانے دیتے ہیں۔ محبت کی صلاحیت صرف اس شخص میں ہوتی ہے جو اپنی اندرونی لہروں کو محبوب کے سپرد کر سکے اور ان قوتوں کو آپس میں گھل مل جانے دے۔
اسی تناظر میں فراق نے اردو شاعری میں 'ہوس' اور 'اہل ہوس' کے تصور کو بالکل ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ روایتی اردو شاعری میں بوالہوس اسے کہا جاتا ہے جو ہمیشہ جسمانی لذت اور نشاط کے پیچھے بھاگتا ہے اور اسے حاصل کرتا ہے۔ لیکن فراق کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے رائخ کے نظریے کے عین مطابق یہ ثابت کیا کہ بوالہوس دراصل وہ شخص ہے جو نشاط کی تاب ہی نہیں لا سکتا۔ اسے پیاس تو لگتی ہے، لیکن جب اسے محبت کا حقیقی اور شدید نشاط پیش کیا جاتا ہے، تو وہ اس امتحان سے گھبرا کر بھاگ نکلتا ہے اور موت یا اذیت کو ترجیح دیتا ہے۔ فراق کا یہ شعر اس نفسیاتی حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے:
تمہیں تو اہل ہوس امتحاں سے بھاگ چلے
یہ کیا ضرور کہ ہوتی تو موت ہی ہوتی
فراق کے یہ اشعار ثابت کرتے ہیں کہ ان کے یہاں استعمال ہونے والے الفاظ محض روایتی شاعرانہ اصطلاحات نہیں ہیں، بلکہ وہ انسانی جسم اور دماغ کے اندر چلنے والی قوتوں کی کیفیات کا بالکل سائنسی اور حقیقی بیان ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی محبت اور نشاط کو برداشت کرنے کے لیے ایک آزاد اور توانا شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بکتر بند اور مریضانہ شخصیتیں اس کائناتی تجربے سے ہمیشہ محروم رہتی ہیں۔
