عصمت چغتائی نے اپنی پوری زندگی روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے گزاری۔ وہ روایت کی ہر سیدھی لکیر کے آگے ایک 'ٹیڑھی لکیر' کھینچنے کی عادی تھیں۔ ان کی یہ روایت شکنی محض ان کی زندگی اور تحریروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی موت اور آخری وصیت بھی اسی ضدی طبیعت اور ٹیڑھے پن کی غماز ثابت ہوئی۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو جب ان کا انتقال ہوا، تو ان کی وصیت نے اردو دنیا میں ایک طویل بحث اور چناں چنیں کا بازار گرم کر دیا۔
انہوں نے اپنے آخری ایام میں خواہش ظاہر کی تھی کہ مرنے کے بعد انہیں سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ وہ مچھلیوں کے پیٹ میں کانٹا بن جائیں اور کسی بہت زیادہ بھاشن دینے والے کے حلق میں پھنس کر کسی کارِ نیک کا باعث بن سکیں۔ اس خواہش کا موازنہ مرزا غالب کی اس مشہور تمنا سے کیا جا سکتا ہے جہاں وہ غرقِ دریا ہونے کی بات کرتے ہیں:
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
تاہم، غالب اور عصمت کے نقطہ نظر میں ایک بنیادی فرق تھا۔ غالب غالباً اپنی کسی نامعلوم رسوائی سے بچنے کے لیے غرقِ دریا ہونا چاہتے تھے، جبکہ عصمت مر کر بھی کسی بھاشن دینے والے (روایت پرست) کے حلق میں پھنس کر اسے کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہتی تھیں۔ بالآخر، ان کی وصیت کے مطابق انہیں سمندر میں بہایا تو نہیں گیا، لیکن جلایا ضرور گیا۔
ان کے اس فیصلے نے اردو کے ادبی حلقوں، بالخصوص ترقی پسندوں کو بھی حیرت اور کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ سردار جعفری جیسے ترقی پسند اور بے نیازِ دین و مذہب شاعر بھی ان کی ارتھی میں شریک ہونے سے یہ کہہ کر کتراتے رہے کہ 'بھائی انہوں نے تو جلانے کی وصیت کی ہے۔' یہ صورتحال اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر عصمت نے جلانے کی وصیت کیوں کی؟ کیا وہ قبر میں کیڑے مکوڑوں کی غذا بننے سے گھبراتی تھیں؟ یا انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر وہ پوری طرح مری نہیں اور قبر میں جی اٹھیں تو کیا ہوگا؟ اس کیفیت کو انہوں نے اپنے افسانے 'تھوڑی سی پگلی' میں انتہائی خوفناک انداز میں بیان بھی کیا تھا۔
ایک اور نفسیاتی پہلو ان کا اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی پر لکھا گیا شہرہ آفاق خاکہ 'دوزخی' ہو سکتا ہے۔ اس خاکے میں انہوں نے اپنے بھائی کو دوزخ کا حقدار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دوزخ میں جا کر دیکھنا چاہتی ہیں کہ ان کا بھائی عذاب نازل کرنے والوں کو کیسے چڑا رہا ہوگا۔ ممکن ہے عمر کے آخری پڑاؤ پر ان کے دل میں بھائی کی محبت موجزن ہوئی ہو اور وہ جل کر اسی 'دوزخ' میں پہنچ کر کہنا چاہتی ہوں، 'لو مُنّے بھائی! میں بھی آ گئی۔' وجہ جو بھی ہو، ان کی یہ متنازع وصیت ان کی شخصیت کا آخری اور انمٹ دستخط تھی، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی وہ کہانیاں ہیں جو اردو ادب کے زندہ رہنے تک ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
