اسرار الحق مجازؔ کی زندگی ایک ایسے المیے کی داستان ہے جہاں بے پناہ مقبولیت اور شدید ترین محرومی ایک ساتھ چلتے ہیں۔ آل احمد سرور کے مضمون سے یہ تلخ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مجاز کو اپنے ہم عصروں میں جو مقبولیت حاصل ہوئی، وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی، مگر یہی شہرت ان کے لیے ایک نشہ بن گئی۔ دوستوں کی واہ واہ، حسین خواتین کی داد اور مشاعروں کی کامیابیوں نے ان کے اندر ایک ایسی کیفیت پیدا کر دی جس نے انہیں عملی زندگی کے حقائق سے دور کر دیا۔
مجاز کی زندگی میں زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب دہلی کے قیام کے دوران انہیں محبت میں ایک ایسا کاری زخم لگا جس کی چوٹ وہ ساری عمر نہ سہہ سکے۔ اس کے ساتھ ہی معاشی تنگ دستی اور نوکریوں کے چھوٹ جانے نے ان کے حساس دل کو مزید توڑ دیا۔ ایک طرف آسمان کی پرواز اور دوسری طرف کلرک کی زندگی کے مصائب، ان متضاد کیفیتوں نے ان کے دماغی توازن کو بگاڑ دیا۔ اس عالم میں شراب ان کے لیے ایک پناہ گاہ بن گئی، جس نے بالآخر ان کی جان لے لی۔
تاہم، مجاز کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان تمام ناکامیوں، محرومیوں اور ذہنی اذیتوں کے باوجود ان کے لہجے میں کبھی تلخی، قنوطیت یا مردم بیزاری نہیں آئی۔ وہ ایک وضع دار، مخلص اور محبت کرنے والے انسان رہے۔ انہوں نے کبھی کسی کی برائی نہیں کی اور نہ ہی شہرت کے لیے کوئی جال بچھایا۔ وہ سب کے دوست تھے اور صرف اپنے دشمن تھے۔ ان کی غزلوں میں اس درد اور محرومی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے، مگر اس میں بھی ایک وقار قائم ہے:
ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے، کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے
یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھیے
الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
سرور صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نشے کی حالت میں بھی مجاز کی شرافت غالب رہتی تھی۔ پٹنہ کے ایک ہوٹل میں نشے کی دھت میں وہ پنڈت کیفی کے پیر دابنے لگے اور کہنے لگے کہ 'آپ بزرگ ہیں، آپ کی خدمت سعادت ہے'۔ یہ ان کے خلوص کی وہ انتہا تھی جس نے پنڈت جی کو بھی آبدیدہ کر دیا۔
شوق کے ہاتھوں اے دلِ مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا
عشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگا
مجاز کا المیہ اردو کے کیٹس (Keats) کا المیہ ہے۔ وہ ایک نازک طبع انسان تھے جو دنیا کی کاروباری زندگی اور زمانہ سازی کے لیے نہیں بنے تھے۔ ماحول نے ان کے ساتھ بے حسی برتی، مگر انہوں نے ماحول کی شکایت نہیں کی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فنکار کی حساسیت کس طرح اسے دنیا کے سامنے بے بس کر دیتی ہے، مگر اس کا فن اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔
